کالمز / بلاگ

پاس کر۔۔۔ ورنہ برداشت کر

بات نکلی ہے تو پھردورتلک جائےگی

سن رکھا ہے کہ اپنی بات منوانی ہو تو ڈنکے کی چوٹ پر کہنا سیکھیے کیونکہ منمنانے والوں کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔ سوشل میڈیا بریگیڈ کو شاید اس بات کا بخوبی احساس ہے جو جذبات کی نیا کو اس سمندرمیں بہائے ہی جا رہے ہیں، نہ منزل کا پتہ نہ کسی محفوظ پڑاؤ سے واقفیت ۔۔۔ معاملہ فہمی، سبھاؤ سے بات کہنا، دلائل سے قائل کرنا یا ہوجانا کس زمانے کی باتیں اور کہاں کی اقدار ہیں بھیا ؟ کیونکہ ہم تو بھئی جیسے ہیں، ویسے رہیں گے۔

تازہ ٹاکرا ہوا ہے صنف نازک کے دلوں کو ٹھیس اور 99 فیصد مردوں کی انا کو تقو یت پہنچانے والے خلیل الرحمان اور فیمنزم کی حامی آنسہ ماروی سرمد صاحبہ کا ۔۔ جائے وقوعہ ہے ٹاک شو جہاں کہیں کے بھی اینٹ روڑے اکٹھے ہو کرٹی وی ڈبے میں ڈگڈگی بجاتے ہیں اور شو ختم ہونے پردادوتحسین پلس لعنت ملامت کے بونس سمیٹ کراگلے بلاوے تک واپس لوٹ جاتے ہیں۔

یہاں تک پڑھنے کے بعد جس جس کی قوت برداشت ختم ہونے کو ہے ، دائیں سے ہو کربائیں اورپھرناک کی سمت میں سیدھے نکل جائیں کیونکہ یہ تحریران کیلئے ہرگز بھی نہیں ہے۔ خیر ہے تو ان کیلئے بھی نہیں جو درمیانی راستے پر یقین رکھتے ہیں جسے اعتدال پسندی کہا جائے۔ تو بس وہی پڑھیں جنہیں صرف اپنا موقف درست لگتا ہے، اور دوسرے اگر پڑھ رہے ہیں تو پاس کریں ورنہ پھر برداشت کریں۔،

فیمنزم کا بھوت پاکستانی مردوخواتین کو ایسے چمٹ گیا ہے کہ دل کرتا ہے اس لفظ کو ڈکشنری سے ایسے غائب کردیا جائے کہ اس مخبوط الحواس جتھے کو پھرڈھونڈے سے بھی نہ ملے تاویکہ عالم ارواح نہ پہنچ جائیں اور پھر وہیں کھلنے والے کھاتے میں اپنے اپنے تھیسسز جمع کروائیں، حاصل شدہ نمبروں کی بنیاد پر جنت جائیں یا جہنم، ان کا نصیب۔

اس بھوت کے چاہنے والوں اوراس سے کراہنے والوں کا سب سے بڑا مرض ایک 4 لفظی جملہ ’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘ ہے۔ اس کے متاثرین ڈائپرز اورفیڈرز کے دورمیں تو اماں ابا کے رحم وکرم پرہوتے ہیں، پھر بلوغت تک پہنچتے پہنچتے تبدیلی کچھ یوں آتی ہے کہ الامان الحفیظ ۔۔۔ ان کے خود ساختہ نظریات میں معاشرہ ان دیکھی آگ میں جل کرخاکستر ہونے کو ہے لیکن ان کی بلا سے۔

میرا جسم میری مرضی ، کا نعرہ پسند کرنے والےجب یہ کہتے ہیں تو کون سوچے کہ ہوسکتا ہے ان کے پیش نظر ونی، کاروکاری ، کم عمری کی شادیاں، گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، شادی شدہ زندگی کے مسائل، تیزاب گردی اور ایسے متعدد بدنما حقائق ہیں، سوچنا ہے تو بس یہ کہ اس کا مطلب صرف اور صرف بےحیائی کا فروغ اور باپ بھائی کو کچھ نہ گرداننا ہے۔ اور ایسا سمجھنے والے جب ان عورتوں کو اپنی مرضی سمجھانے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں تو سارا زوراسلامی شعائرپر لگاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ جنہیں گالیاں دے رہے ہیں وہ بھی کسی کی ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹی ہے۔ اوراگر ایسا نہیں بھی ہے تو کیا وہ انسان نہیں ہے؟ کہاں لکھا ہے کہ عورت کو گالی دو؟ گھٹیاں مثالیں دو، ناکردہ گناہ بھی ان کے کھاتے میں ڈالو۔ کیا تمام عورتوں کو بنیادی آزادی حاصل ہے؟َ ۔

دوسری جانب اس نعرے کی حمایت کر بھی لو تو دیگرنعروں کا کیا جوازہے؟ اپنا بسترخود گرم کرلو، لو صحیح سے بیٹھ گئی جیسے نعرے تو پھر بھی قلم کی گرفت میں آسکتے ہیں لیکن کئی پلے کارڈز دیکھ کر نظریں جھکنے اور بےبسی کے احساس کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔ پھر کہاں سے یہ جواز دیں کہ شدید معترضانہ جملوں پر مشتمل پلے کارڈز اٹھانے والی یہ خواتین معاشرتی ناہمواریوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کررہی ہیں۔ سونے پر سہاگا یہ کہ ایسا کرنے والی تقریبا سبھی بیبیوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر ہوتی ہیں تو کون سمجھائے کہ جن کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے انہیں تو عزت اور محبت چاہیے، وہ موزہ بھی خوشی سے ڈھونڈیں گی اور باقی کام بھی اپنے دل کی پوری رضامندی کے ساتھ کریں گی، بدلے میں چادر، چاردیواری کا سکون ان کا سب سے بڑا انعام ہوگا جس سے بڑھ کر انہیں کچھ نہیں چاہیئے ہوتا۔

بات نکلی ہے تو پھر دور تلک جائے گی ۔۔۔ یہاں ایسا کیا لکھا جائے کہ ان تمام مردوخواتین کے دل ودماغ پر لگے تالے کھل جائیں اور یہ بنیادی نقطہ سمجھ جائیں کہ ’’جس کا جسم اس کی مرضی‘‘ ۔ ایسی مرضی جس میں جنسی استحصال ، بنیادی انسانی حقوق ( مردوخواتین دونوں کے) سمیت کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔ان سب کے ذہنوں پر نقش ہوجائے کہ ’’عزت دو اور عزت لو‘‘، ’’ایک دوسرے کا احترام کرو‘‘ ۔

یقین جانیے اس قوم کو نہ خلیل الرحمان جیسے عقل ودانش کے خزانے لٹاتےصاحبان مطلوب ہیں نہ مردوں کو کیڑے مکوڑے گرداننے والی ماروی سرمد جیسی خواتین ۔۔۔ ہمیں صرف اپنے آپ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اعتدال کی راہ اپنا لو تو دوسروں کی آنکھ کا تنکا دکھنے کے بجائے اپنی آنکھ کا شہتیر پہلے دکھے گا۔

Marvi Sirmed

AURAT MARCH

KHALIL UR REHMAN QAMAR

Tabool ads will show in this div