گولیمار عمارت گرنے کا معاملہ:اموات16ہوگئیں

مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل

کراچی کے علاقے گولیمار میں گرنے والی عمارت کا ملبہ ہٹانے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ آپريشن کے دوران مزید دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جس کے بعد حادثے میں اموات کی تعداد 16 ہوگئیں۔

ریسکیو آپریشن میں پاک فوج، ايدھی، پوليس اور رينجرز اہلکار شريک ہيں۔ جمعرات کے روز گوليمار ميں 80 گز کے پلاٹ پر بنی 5 منزلہ غير قانونی عمارت زمين پر آگری تھی۔ حادثے میں مرنے والوں میں خواتين اور بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 25 سے زائد زخمیوں میں بیشتر کی حالت نازک ہے۔

کئی افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کیلئے تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔ منہدم عمارت 10 فليٹس پر مشتمل تھی، جب کہ اسے 3-4 سال پہلے تعمير کیا گیا تھا۔

گولیمار کی تنگ گلی میں واقع منہدم ہونے والی عمارت کے کچھ حصے اور ملبہ پڑوس کی عمارتوں پر بھی گرا، جس سے بعد میں برابر والی عمارت بھی متاثر ہوئی۔ پہلے منہدم ہونے والی عمارت سمیت دیگر متاثرہ عمارتوں کے رہائشی بھی حادثے میں زخمی ہوئے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے گولیمار میں رہائشی عمارت گرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وسیم اختر نے ضلع وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی کو امدادی کاموں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ میئر کراچی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی فائربریگیڈ،ریسکیو کی ٹیمیں انسانی جانوں کے بچاؤ کیلئے اقدامات کریں۔ میئر کراچی وسیم اختر کی ہدایت پر عباسی شہید اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جب کہ ڈاکٹراور طبی عملے کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل عارف راؤ اسلم نے بتایا ہے کہ عمارت کےقریب گھروں کو وقتی طور پر خالی کروالیا ہے تاکہ مزید کسی جانی نقصان سے بچا جاسکے۔ وزیراعلی سندھ نےعمارت کی تعمیر کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں آیا یہ عمارت کب بنی تھی اور اس کو قانونی طور پر بنایا گیا تھا یاغیر قانونی تعمیر ہوئی تھی۔

اس حوالے سے جیسے جیسے مصدقہ اطلاعات و معلومات موصول ہوتی جائیں گی سماء ڈیحیٹل اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتا رہے گا۔

BUILDING

GOLIMAR

Tabool ads will show in this div