عورت مارچ:قانون کے بغیرانصاف کا حصول مشکل ہے

عورت مارچ سےمتعلق وہ باتیں جوآپ جاننا چاہیں
[caption id="attachment_1865032" align="alignnone" width="800"] تصویر:سماء ڈیجیٹل[/caption]

خواتین کے عالمی دن 8 مارچ کو ان کے حقوق کیلئے ملک کے مخلتف شہروں میں عورت مارچ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

منگل 3 مارچ کو کو کراچی پریس کلب میں عورت مارچ کے حوالے سے پریس کانرنس میں پاکستانی خواتین کی جدوجہد ، شمولیت ، معاشی وماحولیاتی انصاف اور تولیدی حقوق کی خلاف ورزی جیسے مسائل پربات کی گئی۔

پریس کانفرنس میں خواتین، ٹرانس جینڈرز اورغیرثنائی افراد شامل تھے جنہوں نے ’’ہم عورتیں‘‘ کے طور پر متحد ہوکرنعرے لگائے اور مرحومہ عاصمہ جہانگیر کوسرخ سلام پیش کیا۔

اس موقع پرجسٹس (ر) ماجدہ رضوی کا کہنا تھا کہ ’’ ہم خواتین کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کے لیے مارچ نہیں کرتے ، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہر جنس سے تعلق رکھنے والے افراد صنفی انصاف ، اور وقارو احترام کے اصولوں پر مبنی اجتماعی معاشرتی تبدیلی کے لئے متحد ہوکر ایک آواز بن جائیں ‘‘ انہوں نے کہ ہم تشدد سے پاک سندھ چاہتے تھے۔

ٹرانس جینڈر برادری کی جانب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کارکن شہزادی رائے نے کہا کہ پاکستان میں ایسے افراد کیلئےصمت دری کا قانون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے بغیر انصاف حاصل کرنا ناممکن ہے۔

اپنی برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے شہزادی رائے نے کہا کہ ہم عصمت دری سے متعلق ایک علیحدہ قانون چاہتے ہیں کیونکہ رپورٹ درج کرتے وقت اکثر پولیس کی جانب سے غیرواضح سوالات پوچھے جاتے ہی

انہوں نے سرکاری محکموں میں ٹرانس جینڈرز کے لئے 5 فیصد جاب کوٹہ پر عملدرآمد نہ کیے جانے ، شکایتی ڈیسک پر صفر نمائندگی اور علیحدہ سے جیلیں نہ ہونے سے متعلق بھی بات کی۔

صحافی افشاں صبوحی نے معاشی انصاف کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ معاشی مسائل میں خواتین کیلئے فیصلہ ساز ہونے کا کردار بہت مشکل سے ہی دکھائی دیتا ہے جبکہ محدود ذرائع میں معاملات حل کرنا گھربنانے والی خواتین سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔صرف 30 فیصد خواتین یا گھریلو ساز پاکستان کی جی ڈی پی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

سماجی شعبے کی محقق نازش بروہی نے خواتین کی سیاسی نمائندگی پرتبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہمیں خواتین کے مطالبات متنازع نظر آتے ہیں تو ایک وقت میں خواتین کا شناختی کارڈ رکھنا بھی متنازع تھا، اس سب کا آغاز شناختی کارڈ سے لیکر ووٹ ڈالنے کے حق تک سے ہوا ‘‘۔

یونیورسٹی پروفیسر شمع نے خواتین کے تولیدی حقوق سے متعلق بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر 37 منٹ بعد دوران زچگی ایک عورت کی موت واقع ہوجا تی ہے۔ خواتین کواس حوالے سے خود فیصلہ لینا چاہیے، پاکستان میں زچگی کی شرح اموات 276 ہے۔

اقلیتی حقوق کی کارکن غزالہ شفیق نے نابالغ لڑکیوں کے زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور کم عمری کی شادی کے معاملے پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ’’ ایک ہی دن میں مذہب تبدیل کروانے کے بعد شادی کردی جاتی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ کہنا چھوڑ دیں کہ لڑکیوں نے ایسا اپنی مرضی سے کیا، یہ ناانصافی ہے ، مرضی نہیں۔

صحافی عظمیٰ الکریم نے خواتین سے متعلق امور اورعورت مارچ کی کوریج کر نے پر میڈیا کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب حساس معاملات کی بات کی جائے تو صحافیوں کا کردار مناسب معاملات کو مستعدی سے اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے بچوں کے لئے ڈے کیئرسنٹر ہونا چاہیے۔

مطالبات

اس سال عورت مارچ چارٹر کے مطالبات میں تشدد اور جنسی ہراسگی کا خاتمہ ، معاشی انصاف ، تولیدی حقوق ، ماحولیاتی انصاف ، شہرکاحق ، اقلیتوں کے حقوق اورمذہب کی جبری تبدیلی کا خاتمہ ، خواتین ، ٹرانس جینڈرز اور غیرثنائی افراد کی سیاسی نمائندگی ، میڈیان پر خواتین اور ٹرانسجینڈرز کیلئے جنسی تفریق کا خاتمہ اور معذور افراد کے حقوق شامل ہیں۔ پر خواتین اور ٹرانسجینڈرز کے ساتھ جنسی سلوک بند کرنا۔

کراچی میں عورت مارچ کا انعقاد فریئر ہال میں کیا جائے گا۔

AURAT MARCH

Tabool ads will show in this div