اہلخانہ کی جانب سے بچوں سے مشتبہ زیادتی، ڈاکٹرزکوکیا کرناچاہئے؟

گزشتہ سال ملک بھر میں 4ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

پاکستان میں گزشتہ سال بچوں سے زیادتی کے 4 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، کلینکس اور اسپتالوں کے ایمرجنسی رومز میں بچوں کو لایا تو کسی اور وجہ سے جاتا ہے تاہم چیک اپ کے دوران پتہ چلا ہے کہ ان سے زیادتی کی گئی ہے۔ ہمارے جیسے معاشروں میں آپ زیادتی کیخلاف کیسے آواز اٹھاسکتے ہیں جبکہ اس میں خود والدین لاپرواہی کے باعث قصور وار ہوسکتے ہیں؟۔

ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے کام کرنیوالی ڈاکٹر کشور انعام جو آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں ماہر اطفال ہونے کے ساتھ ساتھ حال ہی میں شروع کئے گئے چائلڈ پروٹیکشن سروسز کی سربراہ بھی ہیں، نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ایک الگ منظم سسٹم کی ضرورت پر زور دیا جو بچوں سے زیادتی کے مشتبہ کیسز میں کی تشخیص اور تحفظ کو یقینی بنائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اسپتال میں بچوں سے زیادتی کے متعدد کیسز دیکھتے ہیں، ہر مشتبہ کیس میں نے دیکھا، میں اپنے ساتھ ایک بوجھ گھر لے کر جاتی ہوں کیونکہ میں صرف طبی طور پر مریض کو سنبھال سکتی ہوں اور انہیں نفسیات کے ڈاکٹر کے حوالے کرسکتی ہوں، میں اس رات سو نہیں پاتی کیونکہ میں اس بچے کو دوبارہ اسی ماحول میں بھیج دیتی ہوں، ایسے خاندان بچوں کو دوبارہ فالو اپ کیلئے لے کر نہیں آتے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کشور انعام نے چائلڈ پروٹیکشن سروسز کے آغاز کا فیصلہ کیا، ماہرین اطفال کی ٹیم نے محکمہ نفسیات کے ساتھ مل کر سی پی ایس کمیٹی کے قیام کیلئے کام کیا۔ 5 ماہرین اطفال، ایک نرس اور ایک سیکریٹری اس کا حصہ ہیں۔ ایمرجنسی اور گائناکولوجی ڈیپارٹمنٹس بھی اس میں شامل ہیں۔

جب بھی بچوں سے زیادتی کا کوئی مشتبہ کیس ایمرجنسی یا بچوں کے کلینکگ میں آتا ہے تو ڈاکٹر کو کال اور سائیکاٹرسٹ سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کشور نے مزید بتایا کہ ماہرین اطفال لاپراہی کی علامات کو بآسانی ڈھونڈ سکتے ہیں، جنسی زیادتی کی نشاندہی کرنا زیادہ پیچیدہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سی پی ایس مریض سے سوال جواب اور جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کرتا ہے کہ پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن آفیسر سے رابط کرنا ہے یا نہیں، اگر یہ مشتبہ زیادتی ہوتی ہے تو شعبہ گائنی یا دیگر ساتھیوں کو بھی بلایا جائے گا۔

سی پی ایس کی سربراہ نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں بچے اور اس کے اہل خانہ سے بات چیت کرنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے، زیادہ سے زیادہ معلومات کے حصول اور کم نقصان کیلئے خصوصی صلاحیت ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر جسمانی زیادتی کے کیسز میں غیر حادثاتی زخم اور جان بوجھ کر پہنچائی جانیوالی چوٹوں میں آسانی سے تمیز کی جاسکتی ہے، بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کچھ الگ ہوتے ہیں کیونکہ 80 فیصد میں یہ معمول یا غیر اہم ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر کشور نے یہ بھی کہا کہ 80 سے 90 فیصد واقعات میں مجرم بچے کی جان پہچان والا ہوتا ہے، وہ والدین، نگہداشت کرنیوالا، استاد، رشتہ دار یا جہاں بچہ رہتا ہے اس کے آس پاس رہنے والا بھی ہوسکتا ہے۔

سول سوسائٹی کی تنظیم ’’ساحل‘‘ نے دردناک اعداد و شمار جاری کئے ہیں، سماء کو موصولہ رپورٹ کے مطابق 47 فیصد واقعات قریبی جان پہچان والوں نے انجام دیئے، 23 فیصد واقعات واقف کاروں کے گھروں پر ہوئے اور 16 فیصد بچوں کو ان کے اپنے گھروں میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ساحل کے مطابق جنوری تا جون 2019ء ملک بھر میں ایک ہزار 304 کیس رپورٹ ہوئے۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ یہ تعداد انتہائی کم ہوسکتی ہے کیونکہ زیادہ تر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

قانونی پیچیدگیاں

ڈاکٹر کشور انعام نے واضح کیا کہ قانون ڈاکٹر یا طبی سہولیات فراہم کرنیوالوں کو بچوں سے زیادتی کی رپورٹ کرنے کا اختیار نہیں دیتا، جب تک والدین اور نگہداشت کرنیوالے خود ہم سے ایف آئی آر کے اندراج کا نہ کہیں یا چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کی شمولیت نہ چاہیں، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی اسپتال جیسا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال بھی میڈیکولیگل کیسز سے نمٹنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر کشور نے بتایا کہ اس حوالے سے مدد کیلئے انہوں نے کئی بار محکمہ صحت سندھ، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی سے رابطہ کیا۔

چند ماہ بعد چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے گئے جس کے تحت آغا خان یونیورسٹی اسپتال متاثرہ بچے کو طبی اور نفسیاتی علاج فراہم کریگا اور ایک چائلڈ پروٹیکشن آفیسر زیادتی کے کیسز میں فارنزک اور قانونی پہلوؤں کو سنبھالے گا۔

ماہرین اطفال سمجھتے ہیں کہ صورتحال بہتر ہورہی ہے تاہم ابھی کچھ مسائل باقی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ہمیشہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کی ایف آئی آر درج کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے اور ایسا اس وقت ہی ممکن ہوتا ہے جب میڈیا ور اعلیٰ حکام کی جانب سے دباؤ آئے۔

پولیس اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ بچوں کی عدالتوں کے بغیر نظام انصاف کے معاملات مزید خراب ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر کشور نے مزید انکشاف کیا کہ انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ایس سی پی اے کے پاس کوئی چھت بھی نہیں ہے، شیلٹر ہوم پچھلے 10 سال سے زیر تعمیر ہے، اگر متاثرہ بچے کو بہتر ماحول کی ضرورت ہو تو سندھ حکومت کے پاس انہیں رکھنے کیلئے ایسی کوئی جگہ نہیں۔

محکمہ صحت کی جانب سے 2011ء میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا، جس میں تمام اسپتالوں کے اندر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ماہرین اطفال نے بتایا کہ اس قانون پر بھی تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا، انہوں نے وزارت صحت اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی سے دوبارہ یہ ہدایت نامہ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔

جہاں تک آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی بات ہے، ڈاکٹر کشور پرامید ہیں کہ ایک دن چائلڈ ابیوز ایڈووکیسی سینٹر قائم کریں گی۔ اے کے یو ایچ اسکولوں میں بچوں اور والدین کیلئے ’’کیسے محفوظ رہیں‘‘ کے عنوان سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کرتا ہے، جلد ہی یہ سیشنز مدارس میں بھی کئے جائیں گے۔

Tabool ads will show in this div