خلیل الرحمان کی بدتمیزی پرخاموش رہنے والی اینکرنےمعافی مانگ لی

خلیل الرحمان نے ٹاک شومیں نازیباالفاظ کہے تھے

ڈرامہ سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کے مصنف خلیل الرحمان قمر اور معروف صحافی وتجزیہ نگار ماروی سرمد کے درمیان شدید تلخ کلامی اور مصنف کی جانب سے نازیبا جملے سوشل میڈیا پرزیربحث ہیں۔

گزشتہ رات آن ائر ہونے والے نیو نیوز کے اس ٹی وی شو کی میزبان عائشہ احتشام ہیں جنہیں اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے خلیل الرحمان کو ایسے جملے کہنے پر خاموش رہنے کو کیوں نہیں کہا جبکہ اس دوران ماروی سے وہ مسلسل کہتی رہیں کہ آپ اپنی باری آنے پربولیے گا۔

سوشل میڈیٰا صارفین کی جانب سے تنقید کے بعد عائشہ احتشام نے ٹوئٹرپر اپنے ناظرین سے معافی مانگتے ہوئے اس حوالے سے اپنا موقف بیان کیا ہے۔

اپنی پوسٹ میں عائشہ نے لکھا ’’گزشتہ روز میرے شو کے دوران جو بھی ہواانتہائی افسوسناک ہے، میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ معاملات اس حد تک درشت ہو کر گالم گلوچ تک پہنچ جائیں گے‘‘۔

شو کی میزبان نے وضاحت کی ’’ اس صورتحال کے دوران میں شاکڈ تھی جس نے شاید میری اس بدسلوکی اورمتعصبانہ جملوں پر ردعمل دینے کی صلاحیت کو متاثرکیا۔ لیکن میری جانب سے کچھ بھی جان بوجھ کرنہیں کیاگیا ‘‘۔

عائشہ احتشام نے مزید لکھا کہ دونوں جانب سے انتہائی حد تک چیخاچلایا جارہا تھا، یہ پروگرام کاحصہ ہے جوآن ائر نہیں جاسکتا تھا۔ اس وجہ سے میرے پاس بہت کم گنجائش رہ گئی تھی کہ فوری طور پر ایسے اقدام کی مذمت کرسکتی۔

پوسٹ کے اختتام پر عائشہ نے لکھا ’’میں اپنے ناظرین سے معافی مانگتی ہوں‘‘۔

ٹوئٹرصارفین نے اس پوسٹ پرکیے جانے والے تبصروں میں سوالات اٹھائے کہ صرف ناظرین سے معافی کیوں، آپ خلیل الرحمان قمر کو آئندہ کسی شو میں نہ بلائیں اور ماروی سرمد سے بھی معافی مانگیں۔سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ میزبان نے خود معاملات کواس نہج پرجانے دیا۔

واضح رہے کہ عورت مارچ کے حوالے سے نیو نیوز کے ٹی وی شو میں معاملے کا آغاز تب ہوا جب ماروی سرمدکے بعد بات کرنے والے خلیل الرحمان اپنی بات کاٹے جانے پر یک دم برہم ہوکرضبط کا دامن چھوڑبیٹھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’عدالت نے اگر یہ منع کردیا ہے کہ میرا جسم میری مرضی جیسے غلیظ اور گھٹیا نعرے کو منہیٰ کردیا جائے تو میں ماروی سرمد کو اس کروفر کے ساتھ بولتے ہوئے سنتا ہوں تو میرا کلیجہ ہلتا ہے‘‘۔

اسی دوران ماروی کی جانب سے ’’میرا جسم ، میری مرضی ‘‘ کا نعرہ دہرانے پر مصنف نے چلاتے ہوئے کہا کہ تیرے جسم میں ہے کیا، کون مرضی چلاتا ہے اس پر، اپنا جسم دیکھو جاکر، درمیان میں مت بولو، اس پر کوئی تھوکتا نہیں ہے‘‘۔

بعد ازاں ماروی سرمد نے اس حوالے سے کی جانے والی ٹویٹ میں لکھا ’’یہ وہ آدمی ہے جو عورت مارچ میں شریک خواتین کو اخلاقیات کا درس دیتا ہے، عورت مارچ کے مخالفین کااصل چہرہ دیکھیں‘‘۔

خلیل الرحمان قمر نے نازیبا الفاظ کہتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں بے حیائی کی تحقیق کررہی ہیں۔ بصد احترام کہا کہ میں نے آپ کی پوری بات سنی ، اب میری بات سنیں ، کیا آپ نے سنی۔

Marvi Sirmed

KHALIL UR REHMAN QAMAR

AYESHA EHTESHAM

Tabool ads will show in this div