کالمز / بلاگ

امریکا طالبان معاہدہ اور بھارت

افغانستان میں مستقل امن کیلئے صبر کا دامن تھامنا ہوگا
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ میں تاریخی امن معاہدہ طے پاگیا ہے جس سے افغانستان میں 18 سال جاری خونی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہونے کی اُمید پیدا ہوگئی ہے۔ معاہدے کے تحت اتحادی افواج افغانستان میں موجود اپنے دستے اگلے 14 ماہ میں نکال لیں گی بشرط یہ کہ طالبان اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔ 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار اور افغان فورسز کے ایک ہزار کے قریب قیدی رہا کیے جائیں گے جس کے بعد انٹرا افغان مذاکرات شروع ہوں گے۔ امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہیں۔ آگے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ افغانستان میں مستقل امن کےلیے صبر کا دامن تھامنا ہوگا اور تمام فریقین کو قربانیاں دینی ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہنوز دلی دور است ۔۔ یعنی دلی ابھی بہت دور ہے۔

دلی سے یاد آیا۔ امریکا طالبان معاہدے سے جہاں ایک طرف خطے میں طویل خونی جنگ کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے وہیں کچھ فاصلے پر کشمیر اور اُس سے تھوڑا سا آگے میر تقی میر کا دلی انتہا پسندی اور نفرت کی آگ میں جل رہا ہے۔ گجرات ماڈل کے مسلم کش فسادات میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ مسلمانوں کے سیکڑوں مکانات، دکانوں اور املاک کو نذرآتش کیا جا چکا ہے۔ کیا یہ سب کچھ ویسے ہی ہو رہا ہے یا اس کے پیچھے سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، افغانستان میں موجود اپنے سفارتخانوں میں دہشتگردوں کو بٹھا کر پاکستان میں حملے کیے گئے۔ کراچی اور بلوچستان میں بدامنی کے تانے بانے سیدھے بھارت سے ملتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو اس کی زندہ مثال ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کرکے بھارت کو کیا ملا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیاں دے کر جہاں ان دہشت گردوں کو نیست ونابود کیا وہیں سول حکومت نے سفارتی محاذ پر بھارت کے خواب چکنا چور کر دیے۔ آج پوری دنیا کی نظریں امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی معاہدے پر جمی ہوئی ہیں۔ ہر کوئی پاکستان کا نام عزت و احترام سے لے رہا ہے لیکن بھارت کا دور دور تک نام ونشان نہیں۔ پاکستان نے کامیاب سفارتکاری کے ذریعے بھارت کو سائیڈلائن کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا، جو ہر وقت اوٹ پٹانگ ہانکتا رہتا ہے، وہ بھی چپ سادھے بیٹھا ہے۔

یقینا اس معاہدے سے ضرور فرق پڑے گا لیکن جب تک مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں نفرت کے شعلوں کو نہیں بجھایا جاتا، جب تک بی جے پی کی انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی تب تک خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک بار بار کہہ چکی ہیں کہ افغانستان میں امن کے براہ راست اثرات مقبوضہ کشمیر پر پڑیں گے، بھارت کو خطرہ ہے کہ جس طرح 1948 میں چند ہزار قبائلیوں نے اُن سے آزاد کشمیر چھین لیا تھا، اگر یہ طالبان جو برطانیہ، روس اور اب امریکا کو دھول چٹا چکے ہیں۔ اگر یہ اُٹھ کر آگئے تو کہیں ان سے دلی نہ چھن جائے۔ یاد رہے کہ مسلمانوں نے دلی پر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے، شاید اسی وجہ سے بھارت خوفزدہ ہے۔ بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں امن آئے۔ یقینا وہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں حالات کیا کروٹ لیتے ہیں۔ امریکی سیکریٹری خارجہ کا بیان ’’آگے کا راستہ آسان نہیں‘‘ کہیں اسی تناظر میں تو نہیں۔ افغانستان اور بالخصوص پاکستان کو مکار بھارت سے بہت زیادہ چوکنا رہنا ہوگا۔

TALIBAN

Tabool ads will show in this div