امن معاہدہ:پاکستان سازگارماحول دےسکتاہے،فيصلےنہيں کرسکتا،شاہ محمود

قيديوں کی رہائی پراشرف غنی امريکاسےبات کریں
Mar 03, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/03/MA-SMQ-On-Afghan-In-ND-Pkg-03-03-Ayaz.mp4"][/video]

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امن معاہدہ بڑی پیشرفت ہوئی ہے، افغان قیادت پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھے،سازگار ماحول پيدا کرنے کی ذمہ دارافغان قيادت ہوگی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ امن معاہدے میں اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہيں،افغان صدر کو فراخ دلی سے آگے بڑھنا ہوگا، معاہدے پر عمل نہ ہوا تو نقصان افغانستان اور افغانوں کا ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نےجوکردارادا کرناتھا وہ کیا،دنیا نے بھی سراہا ہے،معاہدےمیں قیدیوں کےتبادلےکاذکرہے،جنگ و جدل کوئی راستہ نہيں،جنگ کا راستہ 20سال اپنايا،کچھ حاصل نہيں ہوا،اگر ايسانہيں ہوتاتو نقصان صرف افغانستان کاہوگا۔

شاہ محمود نے مزید کہا کہ يہ افغان قيادت کي آزمائش کا وقت ہے،ديکھناہے کہ افغان قيادت آگےبڑھنے کی صلاحيت رکھتی ہے،پاکستان نيک نيتی سے معاملات حل کرنا چاہتا ہے،پاکستان امن و استحکام کا خواہشمند ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ معاہدے پر اگلا قدم اُٹھانا افغانوں کا فيصلہ ہے،پاکستان سازگارماحول دےسکتا ہے،فيصلےنہيں کرسکتا،معاہدےکےساتھ ساتھ رویےبھی درست کرناہوتےہیں،قيديوں کی رہائی پر اشرف غنی امريکا سےبات کریں۔

AFGHAN PEACE ACCORD

Tabool ads will show in this div