ميں جلد ذاتی طورپرطالبان رہنماؤں سےملاقات کرونگا،ٹرمپ

طالبان بہت اچھے فائٹر ہیں
Mar 01, 2020
اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آج اپنے لوگوں کو گھر واپس لانے کا وقت آگیا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کیلئے بہت سے لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ دونوں جانب کے فریقین جنگ سے تھک گئے تھے، میں جلد ذاتی طور پر افغان رہنماؤں سے ملاقات کروں گا۔

واشنگٹن کے وائٹ ہاوس میں تاریخی امن معاہدے کے بعد اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت کا آغاز طالبان امریکا معاہدے سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے میں ان تمام لوگوں کو مبارک باد دیتا ہوں جو عرصے سے ان دن کیلئے کام کر رہے تھے۔ میں ان کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان جنگ میں اپنی جانیں دیں، ان گھر والوں کا بھی جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا اور ان لوگوں کا بھی جنہوں نے اس جنگ کے دوران زخم کھائے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کو گھر لانے کا وقت آگيا، دہشت گردوں کو اب افغان طالبان ہلاک کريں گے، کچھ برا ہوا تو اتنی قوت اور اتنی بڑی فوج کیساتھ افغانستان واپس جائيں گے کہ جو کسی نے پہلے کبھی سوچا ہوگا نہ نہیں ديکھا ہوگا، تاہم مجھے امید ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ميں جلد ذاتی طور پر طالبان رہنماؤں سے ملاقات کروں گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ملاقات کب اور کہاں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے يقين ہے کہ طالبان معاملات کو سنبھال ليں گے۔ طالبان بہت اچھے فائٹرز ہیں مگر وہ بھی تھک گئے تھے، وہ وقت ضائع نہيں کريں اور اگر حالات خراب ہوئے تو ہم پلٹ کر آئيں گے۔

پریس کانفرنس میں موجود ایک صحافی کی جانب سے امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ فوج کی واپسی کب سے شروع ہوگی، تو اس کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فوری جیسے کہ ابھی یا جیسے کہ کل۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے بعد ان کے نیٹو اتحادی بھی خوش ہیں اور اپنی افواج واپس بلا رہے ہیں۔ 28 ممالک اس اتحاد میں ہیں اور وہ افغانستان سے نکلنے پر خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ خاتمے کے قریب ہے۔ امریکا کے صدر نے افغان طالبان کی جنگی صلاحیت کی بھی تعریف کی اور کہا کہ طالبان بہت اچھے فائٹر ہیں مگر وہ بھی تھک گئے تھے۔ 19 برس ہوگئے، پورے 19 سال جو بہت طویل عرصہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے کہا کہ رواں برس مئی تک افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں5 ہزار تک کمی کی جائے گی۔ امن معاہدے کے تحت امریکا 14 ماہ میں افغانستان سے اپنی افواج کو نکالے گا۔

ہفتہ کے روز قطر میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور افغان طالبان کے رہنما بھی موجود تھے۔ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر جبکہ امریکا کی طرف سے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے امن معاہدے پر دستخط کیے۔

TALIBAN

Tabool ads will show in this div