عدالت نےپیٹرولیم مصنوعات،سی این جی قیمتوں سےمتعلق کیس کافیصلہ سنادیا

ویب ڈیسک:
اسلام آباد : سپریم کورٹ اف پاکستان نے سی این جی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے کیس سے متعلق مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا عالمی مارکیٹوں کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یک طرفہ انداز میں طے کی جارہی ہیں۔

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ تھرمل سسٹم میں گیس اورکوئلے کو ترجیح دی جائے، جب کہ نیپرا اور پیپکو بجلی پیداوار کے ليے ہائیڈل سسٹم کو ترجیح دیں، مجاز اتھارٹی بجلی کے ضیاع کو روکنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے، بجلی کی پیداوار کیلئے مخلصانہ کوششیں کرکے لوڈشیڈنگ کو مینج کیا جاسکتا ہے۔

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ سی این جی لائسنسز کا معاملہ اوگرا کیس کے ساتھ سنا جائیگا، سی این جی اسٹیشنز لائسنس بظاہر غیر قانونی طور پر تقسیم کيے گئے، سی این جی پر اضافی سیلز ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی وغیر قانونی ہے، حکومت بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم نہیں کر سکتی، آرٹیکل30اے کے تحت عوام کی فلاح حکومت کی ذمےداری ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجلی اور گیس کی سبسڈی ختم نہیں کرسکتی، کھاد کے شعبے میں گیس کی مد میں دی جانے والی سبسڈی جاری رکھی جائے، جب کہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی واپس نہیہں لی جائے، مجاز اتھارٹی لوگوں کی مشکلات ختم کرے۔ لوڈ شیڈنگ ناگزیر ہے، تو یکساں کی جائے، اوگرا 16 سے 17 فیصد ٹیکس وصول کرے، کسان کو روایتی نرخوں پر بوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سماء

فٹبال

جی

کیس

players

qualify

comedian

Tabool ads will show in this div