طالبان اور امریکا معاہدے کے چیدہ نکات کیا ہیں

پچاس ممالک کی شرکت
Feb 29, 2020

افغانستان میں 18 سالہ خونریزی کے بعد طالبان اور امریکا نے امن معاہدے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں افغانستان میں امن کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب قطر کے دارالحکومت دوہا میں منعقد ہوئی جس میں پاکستان سمیت 50 ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ افغان طالبان کا وفد بھی تقریب میں شریک ہوا۔

افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکا کی طرف سے نمائندہ خصوصی برائے افغان عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے۔ دستخط کرنے کے بعد دونوں نے اسٹیج پر مصافحہ کیا اور اپنی نشستوں پر جاکر بیٹھ گئے۔

جب ملا برادر اور زلمے خلیل زاد نے مصافحہ کیا تو ہال میں اللہ اکبر کی آواز گونج اٹھی۔

معاہدے کے تحت امریکا اپنے 13 ہزار میں سے 8600 فوجی آئندہ 3 سے 4 ماہ کے دوران افغانستان سے واپس نکالنے کا پابند ہوگا جبکہ بقیہ 4400 فوجی 14 ماہ کے اندر افغانستان سے نکالے جائیں گے۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا مکمل انخلا البتہ اس بات سے مشروط ہوگا کہ طالبان معاہدے کے نکات پر عملدرآمد کریں اور افغانستان میں دہشت گردی کی روک تھام کریں۔

افغان حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ساتھ بات چیت کرکے 29 مئی تک طالبان رہنماؤں پر عائد پابندیاں ختم کروائیں۔

افغان طالبان اپنے جنگجوؤں کو پرتشدد کارروائیاں ترک کرنے پر آمادہ کریں گے اور اپنے زیر اثر علاقوں میں القاعدہ سمیت دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو پنپنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔ اسی طرح امریکا بھی اس بات کا پابند ہوگا کہ افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے میز پر بٹھائے۔ یعنی انٹرا افغان مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا ہوگا۔

انٹرا افغان مذاکرات کے ساتھ افغانستان کی حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ امریکا اور طالبان کے مابین بھی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا۔

انٹرا افغان مذاکرات 10 مارچ سے ممکنہ طور پر ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں شروع ہوں گے مگر ان مذاکرات میں کون سے امور زیر بحث لائے جائیں گے، اس کی تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اس مقصد کیلئے پہلے حکومت کو افغانستان میں حالیہ صدارتی الیکشن کے نتیجنے میں ہیدا ہونے والے بحران کو بھی حل کرنا ہوگا۔ صدارتی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا ہے مگر دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار عبداللہ عبداللہ نے نتائج مسترد کرتے ہوئے متوازن حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے اور شمالی اتحاد کے سربراہ رشید دوستم نے بھی عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی ہے۔

امن معاہدے پر دستخط سے پہلے قطر کے وزیر خارجہ، طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تقریب سے خطاب کیا اور اسے افغان قوم کے لیے نئی شروعات قرار دیا۔

طالبان رہنما نے اپنی تقریر کے دوران امن عمل میں سہولت کاری پر دیگر ممالک سمیت پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی قبل ازیں اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ مگر مائیک پومپیو نے اپنی تقریر میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔

معاہدے پر دستخط سے پہلے افغان طالبان نے اپنے جنگجوؤں کے نام پیغام میں حملے روکنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی غبر رساں ادارے کو بتایا کہ معاہدے کے احترام میں تمام کارروائیاں روک دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ ہمارت لوگ خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے ملک بھر میں کارروائیاں روک دی ہیں۔

مائیک پومپیو نے اپنی تقریر میں طالبان پر زور دیا کہ القاعدہ کے ساتھ تعلقات ختم کریں اور امن معاہدے کی نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ فتح کا اعلان کرنے میں جلدی تو ہوگی مگر افغان عوام کی فتح اس وقت ہوگی جب وہ امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں۔

طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں افغانستان پر غیر ملکی قوتوں کا قبضہ ختم ہوجائے گا۔ بیان کے مطابق ’ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا اور آئندہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی بلاشبہ بڑی کامیابی ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن اور مصالحتی عمل کا آغاز افغان عوام کی دہائیوں پر محیط اذیت اور تکلیف کو ختم کردے گا۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ تنازعات کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ اب تمام فریق اس امر کو یقینی بنائیں کہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کو دور رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں افغان عوام کے ساتھ ہیں جنہوں نے 40 سال خونریزی میں گزارے۔ پاکستان امن معاہدے پر عمل درآمد کروانے اور افغانستان میں امن لانے کیلئے پرعزم ہے۔

امریکا نے ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد افغانستان پر فوج کشی کی۔ اس جنگ میں اب تک امریکا کے 2400 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ افغان فوج، پولیس اور عام شہریوں کے جانی نقصان کے بارے میں متسند اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

Tabool ads will show in this div