کرونا وائرس:امریکی اسٹاک مارکیٹ9سال کی بدترین سطح پرگرگئی

دنیا بھر کی ایئرلائنز کو30ارب ڈالر کا نقصان
Mar 08, 2020

کرونا وائرس کے باعث دنیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ 9 سال کی بدترین سطح پر گرگئی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی اسٹاک مارکیٹس میں جمعرات کے روز بھی مسلسل چھٹے دن شدید مندی کا رجحان رہا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ 9 سال کی بدترین سطح پر گرگئی، جب کہ ایس اینڈ پی فائیو ہنڈرڈ 4.4 فیصد گرگیا، جب کہ دنیا بھر کی ائیر لائنز کو مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، صرف ایشیائی ممالک میں آنے والی پروازیں منسوخ ہونے سے کمپنیوں کو 27 ارب 80 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے امریکی کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ ہی حالات برقرار رہے تو کمپنیوں کے منافع میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق کرونا وائرس وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دوسری جانب کیلی فورنیا کے گورنر کا کہنا ہے کہ 33 افراد کے ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں۔ ان میں 5 افراد ریاست سے جاچکے ہیں، جب کہ مختلف کمرشل پروازوں سے آنے والے 8400 افراد کی مانیٹرنگ کی جاری ہے۔

واضح رہے کہ کیلی فورنیا میں کورونا وائرس کا پہلا مقامی کیس بدھ کو رپورٹ ہوا تھا، جب کہ دیگر شہروں اور اسٹیٹسز میں بھی مختلف پروازوں سے امریکا آنے والوں کی اسکینگ جاری ہے۔

دوسری جانب کرونا وائرس کے اثرات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جہاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 52 ڈالر 45 سینٹ ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ کم ہوگئی ہے۔

ایک سال پہلے یہ قیمت 75 ڈالرفی بیرل تھی۔ 12 ماہ میں خام تیل 23 ڈالرفی بیرل یعنی 30 فیصد سے زائد سستا ہوا ہے۔ گزشتہ 2 ماہ کے دوران بھی خام تیل 17 ڈالر فی بیرل سستا ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمت میں کمی چین میں تیل کی طلب کم ہونے کے باعث کم ہوئی۔

USA

Tabool ads will show in this div