عمرایوب کی نجی پاورپلانٹس کےساتھ معاہدوں پرنظرثانی کی تجویز

سستی بجلی دینا حکومت کی ترجیح
Feb 25, 2020

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/02/Nepra-Energy-Week-Isb-Pkg-24-02.mp4"][/video]

توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ 1900 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ ماضی میں ہونے والے معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیرتوانائی عمرایوب کہتےہیں کہ عوام کوصرف بجلی نہیں بلکہ سستی بجلی دینا حکومت کی ترجیح ہے۔

چئیرمین نیپرا توصیف فاروقی نے بتایا ہے کہ گردشی قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 1900 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ انھوں نے کہا کہ بہت سارے کام ایسے ہیں جنھیں بہترکرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر توانائی عمر ایوب نے پاور سیکٹر میں بہتری کے لیے نجی پاور پلانٹس کےساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی تجویز دی اور کہا کہ کپپسٹی چارجز کی مد میں خطیر رقم صارفین ادا کرتے ہیں۔

چئیرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ ملک میں 51 فیصد بجلی اور گیس جبکہ جبکہ پانی سے صرف 26 فیصد بجلی پیدا ہورہی ہے۔ اس کی وجہ ذخائر میں کمی ہے۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے مزید منصوبوں کی ضرورت ہے۔

چئیرمین واپڈا کا یہ بھی کہنا تھا کہ سال 2030 تک پانی سے سستی بجلی کی پیداوار میں 16 ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوجائے گا۔

Tabool ads will show in this div