انور منصور خان سے معافی مانگتا ہوں، وزیر قانون

سابق اٹارنی جنرل سے متعلق بیان واپس لے لیا
Feb 24, 2020

وفاقی وزير قانون بیرسٹر فروغ نسيم نے مستعفی اٹارنی جنرل انور منصور سے معافی مانگ لی، وہ بڑے بھائی ہیں۔ یہ بھی واضح کردیا کہ مجھے خالد جاويد کی تعیناتی پر تحفظات نہيں، نہ ہی استعفیٰ دے رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل پاکستان کیپٹن (ر) انور منصور خان نے 20 فروری کو عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : اٹارنی جنرل انور منصور عہدے سے مستعفی

دوسری جانب حکومت کا مؤقف تھا کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے استعفیٰ دیا نہیں ان سے لیا گیا ہے۔

انور منصور خان کے استعفیٰ کے بعد خالد جاوید خان کو اٹارنی جنرل پاکستان تعینات کردیا گیا تھا، ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن 22 فروری کو جاری کیا گیا۔

مزید جانیے : جسٹس فائزکیس:اٹارنی جنرل کی حکومتی نمائندگی سےمعذرت

میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے انور منصور خان سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں، ان سے متعلق بیان واپس لیتا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید کی تعیناتی پر کوئی تحفظات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جسٹس فائزکیس:اٹارنی جنرل کی حکومتی نمائندگی سےمعذرت

بیرسٹر فروغ نسیم نے وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی باتوں کی بھی تردید کردی۔

واضح رہے کہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے سے معذرت کرچکے ہیں۔

faroogh naseem

Anwar Mansoor Khan

Tabool ads will show in this div