مردان، بچی سے زیاتی کے مجرم کو عمر قید

مجرم نے 7 سال کی بچی کا ریپ کیا تھا
Feb 24, 2020

خیبر پختونخوا کے وسطی ضلع مردان میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے کم سن بچی کے ساتھ زیادتی کے مجرم کو عمر قید کی سزا سنادی۔

مردان کے نواحی علاقہ شہباز گڑھی میں 27 سالہ ہارون نامی شخص نے 2017 میں سات سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کا مقدمہ شہباز گڑھی پولیس اسٹیشن میں تعذیرات پاکستان کی دفعہ 376 اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 53 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

پیر کو چائلڈ پروٹیکشن کورٹ مردان کی جج فریال ضیاء مفتی نے جرم ثابت ہونے پر مجرم ہارون کو دفعہ 376 کے تحت عمر قید جبکہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 53 کے تحت 10 سال قید کی سزا سنادی۔ ساتھ ہی 10 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کردیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مجرم کو مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق مجرم ہارون متاثرہ بچی کا پڑوسی تھا جو اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ مردان میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کا یہ پہلا فیصلہ ہے۔ خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2010 کے تحت تمام اضلاع اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹس قائم کرنا ضروری ہے مگر تاحال صرف تین اضلاع میں ان عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جٹس وقار احمد سیٹھ نے مارچ 2019 میں پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں پہلی چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کا افتتاح کیا اور بعد ازاں ستمبر میں اس کو دو مزید اضلاع مردان اور ایبٹ آباد تک توسیع دی گئی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فریال ضیاء مفتی کو مردان جبکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید افتخار شاہ کو ایبٹ آباد میں تعینات کردیا۔

Tabool ads will show in this div