پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر بھارتی لڑکی گرفتار

امریکی کمیشن کا اظہار تشویش
Feb 21, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/02/MA-US-COMMISSION-ON-CITIZEN-BILL-PKG-PKG-21-02-ASIF.mp4"][/video]

امریکی عالمی کمیشن نے کہا ہے کہ بھارت میں شہریت کا متنازع قانون مسلمانوں کے لیے خطرناک ہے۔ اس کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب بنگلور میں احتجاج کے دوران لڑکی نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا جس پر پولیس نے غداری کا مقدمہ درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا۔

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف امریکا سے بھی آوازیں اُٹھنے لگیں۔ امریکی عالمی کمیشن نے صورتحال کو مجموعی طور پر مسلمانوں کے لیے خطرناک قرار دے دیا۔

کمیشن کی مذہبی آزادی سے متعلق نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہریت کے نئے قانون کو ہندوتوا نظریے کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ ہندوتوا کا سیاسی بیانیہ مسلمانوں کے بھارتی شہریت کو چیلنج کرتا ہے اور انہیں مستقل طور پر ایک الگ تھلگ کمیونٹی قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بھارت کے متعدد شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔ بنگلور کے فریڈم پارک میں احتجاجی جلسے کے دوران امولیا نامی لڑکی نے اچانک پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا۔

جس پر منتظمین نے لڑکی کے ہاتھ سے مائیک چھین لیا اور دھکے دیتے ہوئے اسٹیج سے اتار دیا۔ پولیس نے لڑکی کو حراست میں لے کر تھانے میں بند کر دیا۔

دریں اثنا سپریم کورٹ کی ٹیم سیاہ قانون کے خلاف دھرنے پر بیٹھی خواتین سے مذاکرات کے لیے شاہین باغ پہنچ گئی۔ صحافیوں کی جانب سے مشورہ دینے کی کوشش پر مذاکراتی ٹیم کی رکن سادھنا رام چندرن نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ایسی میڈیا اندر آئے جو ہمیں بتائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میڈیا یہاں صرف کوریج کے لیے ہے۔ رائے دینے کے لیے نہیں۔ میں میڈیا سے کہتی ہوں کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔ جب میڈیا باہر جائے گا تب ہم کارروائی شروع کریں گے۔

شاہین باغ کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت متنازع قانون واپس لے لے یا پھر پارلیمنٹ ہاؤس اور امت شاہ کے گھر کے باہر دھرنا دینے کی اجازت دے تو وہ راستہ کھولنے کو تیار ہیں۔

Tabool ads will show in this div