سندھ حکومت کراچی میں مزید2 اضلاع کا منصوبہ بنارہی ہے،وسیم اختر

سیاسی مفادات کیلئے پہلے شہرکو6اضلاع میں تقسیم کیاگیا

میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کراچی میں مزید 2 اضلاع کو شامل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

جمعہ 21 فروری کو مقامی ہوٹل میں آل سٹی تاجر ​​اتحاد کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار "کراچی کے شہری مسائل" سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرنے کے نام پر حکومت سندھ کراچی میں مزید 2 اضلاع بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی زیر قیادت سندھ حکومت نے سیاسی مفاد کیلئے ایک ضلع کو مزید 6 اضلاع میں تقسیم کرکے کراچی کو تباہ کردیا ہے۔ اب ضلع لیاری اور ضلع گڈاپ کو بھی تشکیل دینے کا ارادہ کر رہے ہیں۔

میئر کراچی کے مطابق حکومت سندھ پہلے ہی کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرچکی ہے، اور ٹیکس وصولی کے محکموں کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی کو مزید تقسیم کرنے کی اب ہر سازش کا ڈٹ کامقابلہ کیاجائے گا۔ شہر کو پل اور انڈرپاسز نہیں بلکہ علاقوں کے بنیادی مسائل کاحل چاہیے، وفاق اور سندھ کو کراچی اور عالمی ڈونرزایجنسیوں سے اربوں روپے آئے لیکن ان سے کے سی آر نہیں چلتی۔

وسیم اختر نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ حکومت سندھ نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترامیم کے حوالے سے کام جاری ہے اوراسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔ تاجرکمیونٹی کو صوبائی حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں کس قسم کی ترامیم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کے لئے عدالتوں میں موجود ہوں،میں نے آنے کے بعد اعلیٰ عدلیہ کا سہارا لیاآرٹیکل 140اے کی پٹیشن داخل کی۔

وسیم اخترنے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے پچھلے 70 سال میں یکساں لوکل گورنمنٹ ایکٹ نہیں بنایا، اس نظام میں مسلسل تبدیلی کا اضافہ کراچی پر تباہ کن اثر ڈالتا ہے۔ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کروائے،ورنہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات نہ کرواتیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ بلدیاتی اداروں کے حقوق بھی بحال کرے۔

انہوں نے تاجر برادری سے کہا کہ وہ کراچی کے لیے لوکل گورنمنٹ ایکٹ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Tabool ads will show in this div