لاہورعدالت میں قصہ 60 سال پہلے دیئے گئے جہیز کا

کیس کی سماعت فیملی کورٹ
Feb 21, 2020
یہ ایک فائل فوٹو ہے

لاہور کی مقامی عدالت میں خاتون نے 60 سال پہلے لیے گئے جہیز کو واپس کرنے کیلئے درخواست دائر کردی۔

برطانوی ذرائع ابلاغ سے جاری خبر کے مطابق لاہور کے فیملی کورٹ میں اہلیہ نے شادی کے تقریباً 60 برس بعد جہیز کی واپسی کی درخواست دی۔ اس موقع پر جج نے کہا کہ لڑکا کہاں ہے؟ جج کے مطالبے پر جب متعلقہ شخص عدالت میں داخل ہوا تو سب حیران رہ گئے، کیوں کہ ایک عمر رسیدہ شخص اسماعیل اپنی چھڑی کے سہارے چل کر عدالت میں پیش ہوئے تو جج صاحب سمیت باقی لوگوں کو بھی ہنسی آ گئی، کہ کہاں لڑکا اور کہاں یہ بابا۔

یہ تصویر بی بی سی سے لی گئی ہے، یہ درخواست گزار خاتون ہیں

یہ معاملہ پنجاب کے علاقے پتوکی کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے اسماعیل کا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی عمر اندازاً 80 سال سے زائد برس ہے جب کہ ان کی اہلیہ تاج بی بی کی عمر بھی کم و بیش اتنی ہی ہے۔ دونوں کی شادی 1960 میں ہوئی تھی۔

اس انوکھے دعوے کی سماعت منگل کو ہوئی تو اسماعیل اپنے ایک 85 سالہ گواہ یحییٰ کو لے کر عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو اگلی پیشی پر شہادتیں اور ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ تصویر بی بی سی سے لی گئی ہے۔ تصویر میں موجود اسماعیل نظر آرہا ہے،جس کیخلاف مقدمہ دائر ہوا

اسماعیل کے وکیل وسیم راجپوت اور شہباز علی کے مطابق تاج بی بی نے عدالت میں فہرست جمع کروائی گئی ہے جس میں انھوں نے گھریلو استعمال کی چیزیں جیسا کہ فریج، گیس ہیٹر، جوسر، فرنیچر، واشنگ مشین، دو تولہ سونا سمیت دیگر اشیا کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام سامان آج کے دور کے حساب سے تقریباً 10 لاکھ کی مالیت کا ہے۔

اسماعیل کے وکیل کے مطابق جس اشیا کا تاج بی بی نے واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان کا تصور سال 1960 میں کیا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

انہیں باتوں پر جب عدالت میں تاج بی بی سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ شادی کے بعد کھانا بناتی تھیں اور کیا گیس آتی تھی، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ 'پتر اس دور میں تو ہم دیئے جلاتے تھے، گیس کہاں سے آئی۔

تاج بی بی کے وکیل کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی فہرست میں 107 ملبوسات اور دیگر کپڑوں کا بھی ذکر ہے جو جہیز میں دیئے گئے جن کی قیمت اس وقت تقریباً 28 ہزار روپے تھی، جب کہ فرنیچر، سونا اور گھر کی دیگر اشیا شامل کرکے ان کی قیمت تقریباً ایک لاکھ دس ہزار روپے بنتی ہے۔

تاج بی بی کے وکیل نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں استدعا کی ہے کہ اسماعیل ان کے جہیز کی مالیت کی رقم ادا کریں۔ انھوں نے اسماعیل کی مالی حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک زمیندار ہیں اور اسے زرعی زمین سے 8 لاکھ روپے آمدن ہوتی ہے، جب کہ انھوں نے ایک ڈیری فارم بھی بنا رکھا ہے جس سے 1 لاکھ روپے آمدنی آتی ہے اس لیے اسماعیل ان کی مؤکلہ کو باآسانی 1 لاکھ روپے ادا کر سکتا ہے۔

اس کے ساتھ تاج بی بی کے وکیل کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اسماعیل ان کی مؤکلہ کو 2 لاکھ روپے طبی اخراجات بھی ادا کرے۔

اسماعیل کے بھائی نعمت علی کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقے میں گیس اور بجلی چند سال پہلے آئی ہے، تو یہ کیسے گیس اور بجلی سے چلنے والی چیزیں 60 سال پہلے جہیز میں لے آئیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں اور میرا رشتے دار یحییٰ ان دونوں کی شادی کے گواہ بنے تھے۔ تاج بی بی میری پھوپی کی بیٹی ہے اور وہ اپنے ساتھ ایک چیز بھی جہیز میں نہیں لائی تھی۔

اسماعیل کے بھائی نعمت علی کا کہنا ہے کہ تاج بی بی سے ان کے بھائی کی شادی 5 برس ہی چلی تھی۔

اس نے اس کیس سے پہلے بھی پتوکی میں ایک مقدمہ درج کروایا تھا جس میں انھوں نے الزام لگایا کہ اسماعیل نے ان کی ڈھائی مرلے جگہ پر قبضہ کر رکھا ہے، جب کہ وہ زمین اپنے بھتیجے کو دینا چاہتی ہیں تاہم اس مقدمے کو پولیس نے چھان بین کے بعد خارج کر دیا تھا۔

نعمت علی نے الزام لگایا کہ تاج بی بی ان کے بھائی کو کافی عرصے سے تنگ کر رہی ہیں کبھی وہ اپنے کپڑے پھاڑ دیتی ہیں کبھی کوئی اور لڑائی کرتی ہیں۔ جب ان سے کچھ نہیں ہوا تو اب تاج بی بی نے لاہور میں جہیز کا کیس کر دیا ہے۔ میرا بھائی تو اس عمر میں بدنام ہی ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ کیس اب بھی لاہور کے فیملی کورٹ میں جاری ہے، جہاں عدالت نے اگلی پیشی پر ثبوتوں اور گواہوں کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

Family Court