اٹارنی جنرل انور منصور عہدے سے مستعفی

استعفیٰ ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال
فوٹو: فائل
فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونس کے سربراہ انور منصور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

انور منصور نے اپنا استعفیٰ صدر ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کر دیا۔

اپنے استعفیٰ میں انور منصور نے لکھا کہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ تک عہدے پر فائز رہا اور اس دوران حکومت کے قانونی مؤقف اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان بار کے ساتھیوں کے مطالبے پر استعفیٰ دے رہا ہوں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل کے موقف سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرایا جس میں وزارت قانون نے موقف اپنایا کہ اٹارنی جنرل انور منصور نے استعفی دیا نہیں بلکہ ان سے لیا گیا۔

تحریری جواب کے مطابق اٹارنی جنرل نے حکومتی ہدایات کے بغیر عدلیہ کے حوالے سے موقف اپنایا اس لیے حکومت اٹارنی جنرل کے اپنائے گئے موقف سے لاعلم تھی۔ اٹارنی جنرل کا عدالت میں بیان غیرمناسب تھا۔

وفاقی حکومت عدلیہ کا بہت احترام کرتی ہے، جبکہ آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

وفاقی حکومت کا تحریری جواب جسٹس فائز عیسی کیس میں سیکرٹری قانون کے دستخط سے جمع کرایا گیا جبکہ کيس ميں وزارت قانون نے متفرق درخواست بھی جمع کرا دی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل سے تحریری معافی یا بیان کی بنیاد بننے والا مواد طلب کیا تھا۔

ATTORNEY GENERAL

Anwar Mansoor Khan

Tabool ads will show in this div