کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیسرا فریق ملوث ہے، تفتیشی حکام

اسٹاف رپورٹ


کراچی : کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ وارداتوں میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد کے قتل میں صرف 2 پستول استعمال کئے گئے، تفتیش کرنے والوں نے وارداتوں میں تیسرے فریق کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہرکیا ہے۔


شہر قائد میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نہ رونما ہو، 3 دسمبر کو یورنیورسٹی روڈ پر علامہ دیدار جلبانی اور ان کے محافظ کے قتل، 29 نومبر کو یونیورسٹٰی روڈ پر جامعہ کراچی کے 2 طالب علموں شاداب حسین اور حمزہ، 27 ستمبر کو یونیورسٹی روڈ پر علامہ کاشف حسین زیدی کے قتل میں ایک ہی نائن ایم ایم پستول استعمال ہوا۔


فرانزک رپورٹ کے مطابق پانچوں افراد کے قتل میں ایک ہی ہتھیار استعمال ہوا، ٹارگٹ کلنگ کی 90 فیصد وارداتوں میں نائن ایم ایم پستول استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔


سائٹ، میٹروول، نیو ٹاؤن، ٹیپو سلطان اور ناظم آباد میں 15 سے زائد پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ایک ہی نائن ایم ایم پستول استعمال ہوا، ٹارگٹ کلنگ کی بیشتر وارداتوں میں دہشت گردوں کی سواری موٹر سائیکل رہی۔


پولیس ذرائع کے مطابق 28 نومبر کو بلوچ کالونی کے قریب مذہبی جماعت کے کارکن شبیر کی ٹارگٹ کلنگ اور یکم دسبمر کو نمائش چورنگی پر مدبر اور حیدر علی  کے قتل میں ایک ہی پستول استعمال ہوا۔


تفتیشی ذرائع کہتے ہیں کہ دونوں وارداتوں میں ایک ہی قاتل ملوث ہے، تفتیشی حکام کہتے ہیں حالیہ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں تیسرا گروپ ملوث ہے۔ سماء

میں

کے

burger

policy

حکام

Tabool ads will show in this div