کیماڑی گیس لیک: کیمیکل زدہ پانی سیوریج میں جانےکا شبہ

سویابین تھیوری مشکوک
Feb 19, 2020
PAKISTAN-THEME-OIL
PAKISTAN-THEME-OIL
[caption id="attachment_1849352" align="aligncenter" width="800"] Photo: AFP[/caption]

کراچی یونیورسٹی کے ریسرچرز نے اپنی رپورٹ میں زہریلی گیس کو سویابین کے کنٹینر سے اٹھنے والے غبار کو قرار دیا تھا مگر دیگر ماہرین نے اس رپورٹ پر شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔

کراچی کے علاقہ کیماڑی میں پراسرار زہریلی گیس کے باعث اب تک 14 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد متاثر ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔

زہریلی گیس کے پہلے کیسز اتوار کو رپورٹ ہوئے۔ بدھ کو کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بیالوجیکل سائسنز نے اپنے ماہرین پر مشتمل وفد کو کیماڑی میں واقع کراچی بندرگاہ روانہ کردیا۔

کراچی یونیورسٹی کے وفد نے دورے کے بعد کمشنر کراچی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ فضا میں زہریلی گیس ممکنہ طور پر سویابین کے کنٹینر سے اٹھنے والے غبار کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

دیگر ماہرین اس تھیوری پر شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ضیاء الدین اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ زمینی حقائق سویابین والی اسٹوری سے میل نہیں کھاتے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بارسلونا میں ہونے والے واقعہ کے بارے میں بھی پڑھا ہے مگر فوری اعصابی کمزوری اور موت جیسے نتائج سویابین کے غبار میں نہیں پائے گئے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ کیماڑی میں ایک وقت پر 10، 10 لوگ گر اچانک گرے اور انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔ اسپتال کے دو انتائی قابل ڈاکٹرز بھی اس وقت آئی سی یو میں زیرعلاج ہیں۔ ان میں سے ایک کو seizure اور alkalosis کے باعث اسپتال لایا گیا۔

یاد رہے کہ alkalosis اس وقت ہوتا ہے جب خون میں تیزابیت کی مقدار نارمل حد سے بڑھ جائے۔ نارمل حد اس کی 7.35 سے لیکر 7.45 تک ہے۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ کی کمی یا plasma bicarbonate میں اضافہ alkalosis کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کا فوری علاج نہ کیا گیا تو موت واقع ہوسکتی ہے۔

پاکستان نیوی کے ایک ریٹائرڈ چیف انجنیئر نے کہا کہ یہ نہ کوئی زہریلی گیس لیک ہوئی ہے اور نہ ہی سویابین کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر گیس لیک ہوتا تو بندرگاہ پر کام کرنے والے افراد بھی متاثر ہوتے مگر یہاں صرف کیماڑی کے رہائشی زیادہ نشانہ بنے ہیں۔

سابق چیف انجنیئر کے خیال میں اس کی وجہ کیمیکل ٹینکر کی صفائی کے بعد پانی کو ٹھیک طرح ٹریٹ نہ کرنا ہے۔ کیمیکل ٹینکر کی صفائی کے بعد گندا پانی علاقے کے سیوریج میں چلا گیا ہے۔

بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے آئل اور کیمیکل کنٹینرز کو خالی کرنے کے بعد پانی سے دھویا جاتا ہے۔ صفائی کے بعد ایک اور کیمیکل کے ذریعے اس پانی فاضل پانی سے کیمیکلز الگ کیے جاتے ہیں۔ پھر پانی کو سیوریج میں چھوڑا جاتا ہے جبکہ پانی سے الگ کردہ کیمیکز کو الگ سے مخصوص مقامات پر ڈسپوز کیا جاتا ہے۔

سابق نیوی انجنیئر کے مطابق لگتا ہے پورٹ پر کام کرنے والے افراد نے ٹینکر کی صفائی کے بعد پانی کو ٹریٹ کیے بغیر چھوڑ دیا اور وہی کیمیکل زدہ پانی سیوریج میں چلا گیا۔ اب سیوریج میں پہلے سے مختلف گیسز موجود ہوتی ہیں، جب ایک اور کیمیکل آکر مل گیا تو وہ مزید زہریلی ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹینکرز کی صفائی کیلئے وضع شدہ طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ ہر ٹینکر کی صفائی کے بعد آکسیچن کی جانچ کی جاتی ہے۔ اگر ٹینکر میں آکسیجن لیول 21 اعشاریہ 1 نہ ہو تو اسٹاف ٹینکر کے اندر نہیں جاتا۔ اگر کوئی اندر چلا جائے اور اسے کچھ ہوجائے تو متعلقہ کمپنی متاثرہ ملازم کو 72 ماہ کی تنخواہ ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

Tabool ads will show in this div