کیماڑی، زہریلی گیس کی تحقیقاتی رپورٹ چند گھنٹوں میں متوقع

وزیر اطلاعت کی پریس کانفرنس
Feb 18, 2020
[caption id="attachment_1847302" align="aligncenter" width="640"] KARACHI: Feb17- People Wear mask on their faces to protect themselves from toxic gas, as due to suspected gas leakage at least five people died and dozen are hospitalized in Keamari area. ONLINE PHOTO by Sabir mazhar[/caption]

سندھ حکومت نے کہا ہے کہ کراچی کے علاقہ کیماڑی میں زہریلی گیس کے اخراج کی تحقیقات جاری ہیں۔ چند گھنٹوں میں نتائج سامنے آئیں گے۔

کشمنر کراچی کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم نے پریس کانفرنس یہ سوچ کر بلائی تھی کہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آجائے گی مگر ابھی تک رپورٹ نہ آسکی جس کے باعث ہم حتمی رائے نہیں دے سکتے۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنا کھٹن مرحلہ ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی اور پاکسان نیوی کی ریسرچ ٹیمیں گیس کے اخراج کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ چند گھنٹوں میں نتائج سامنے آجائیں گے۔

ناصر حسین شاہ نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ گیس کے اثرات کیماڑی تک محدود ہیں مگر کیماڑی سے لوگوں کو نہیں نکالا جارہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ ضرورت ہوگی تو لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کریں گے۔

کشمنر کراچی افتخار شلوانی نے کہا کہ گیس کے اثرات کیماڑی سے باہر نہیں پھیلے۔ میڈیا سے گزارش ہے کہ افواہیں پھیلا کر عوام کو پریشانی اور افراتفری میں مبتلا نہ کرے۔

سندھ کے محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ظفر مہدی کے مطابق اب تک زہریلی گیس کے باعث 14 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 9 افراد ضیاء الدین اسپتال، سول اور کتیانہ میمن اسپتال میں 2،2 اور برہانی اسپتال میں ایک شخص دم توڑ گیا۔

علاوہ ازیں 500 افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ان کی ٹیسٹ رپورٹس اور جاں بحق افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹس 72 گھنٹے میں سامنے آئیں گی۔

Tabool ads will show in this div