نوشہروفیروز:مقتول صحافی عزیزمیمن کی تدفین کردی گئی

پانی ميں ڈبو کر مارنے کے شواہد ملے ہيں
فوٹو: فیس بک/ عزیز میمن

نوشہرو فيروز کےسینئرصحافی عزیز میمن کی تدفین کردی گئی۔ میت پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے  الصبح کردی گئی تھی۔

اسپتال حکام کے مطابق ابتدائی طور پر عزیز میمن کو پانی ميں ڈبو کر مارنے کے شواہد ملے ہيں۔ مقتول صحافی کو گاؤں چھوڑ کر آنے والے کیمرہ مین کو بھی حراست میں لے لیا گيا ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ کیبل سے گلا دبانے سے موت واقع ہونےکے کوئی شواہد نہيں ملے۔

محراب پور سے تعلق رکھنے والے صحافی عزیز میمن کی نماز جنازہ  ادا کی گئی جس میں پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سرفرازشاہ، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مظفر شاہ و دیگر سیاسی، سماجی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقتول صحافی کی صالح سہتو میں تدفین کردی گئی۔ عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ کے ٹی این چینل کے صحافی عزیز میمن کی لاش گودو نہر سے ملی تھی، مقامی چرواہوں نے گودوشاخ میں نعش دیکھ کر اسے باہر نکالا تھا، مقتول صحافی کے گلے میں کیبل کی تار پھنسی ہوئی تھی۔

وزيراعلیٰ سندھ  نے صحافی عزيز ميمن کے قتل کا نوٹس ليتے ہوئے ڈی آئی جی بينظير آباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

سينئر صحافی عزیز میمن کے قتل پر نوشہرہ فيروز اور محراب پور ميں صحافی تنظيموں کی جانب سے 3 روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔

محراب پور میں سینئر صحافی عزیز میمن کے قتل پر صحافیوں نےاحتجاجی مظاہرہ کیا۔ صحافی یونین اور پریس کلب کی جانب سے صحافیوں نے پریس کلب سے گھنٹہ گھر تک احتجاجی ریلی نکالی، صحافیوں نے پلےکارڈ ہاتھوں میں اٹھا کر صحافی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ صحافیوں نے بازو پرسیاہ پٹیاں باندھ کراحتجاجی ریلی نکالی۔ شرکاء نےسینئرصحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے سزا دینےکا مطالبہ کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹوزرداری کی جانب سے محراب پور میں صحافی عزیز میمن کے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عزیزمیمن کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت اور منطقی انجام تک پہنچایا جائے،عزیز میمن کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں، ہر مقتول کے ورثاء کا غم میں سمجھ سکتا ہوں،صحافیوں کی تحفظ کے معاملے پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔

JOURNALIST

Aziz Memon

Tabool ads will show in this div