آئین میں آرٹیکل 6 کی اہمیت اورمندرجات

سنگین بغاوت کایہ مقدمہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ سیشن عدالت سننےکی مجاز
Feb 15, 2020

آئين کا آرٹيکل 6 دستور توڑنے کو سنگين غداری قرار ديتا ہے۔ سنگین بغاوت کا یہ مقدمہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے۔

آئين کے آرٹيکل 6 کی 3 ضمنی دفعات ہيں۔ ذيلی شق ايک کے مطابق جو شخص طاقت کے استعمال سے يا غيرآئينی ذريعے سے دستور توڑنے یا اس کی کوشش يا سازش کرے،تخريب کرے يا تخريب کرنے کی کوشش يا سازش کرے توايسا شخص آئين سے سنگين غداری کا مرتکب ہوگا۔

اسی آرٹيکل کی ضمنی دفعہ نمبر 2 ميں لکھا ہے کہ جو شخص بھی آئين توڑنے کے عمل ميں مدد کرے ، اس پر اُبھارے يا تعاون کرے وہ بھی سنگين غداری کا مرتکب قرار پائے گا۔

آئين کی اس شق پرعمل کيليے بنائے گئے سنگين بغاوت کی سزا کا قانون 1973 کی بھی 3 ذيلی شقيں ہيں۔ اول يہ کہ اس قانون کا نام 'سنگین بغاوت کی سزا کا قانون 1973 ہوگا۔دوم يہ کہ ايسا فرد جو آئين کو توڑنے يا ايسا کرنے کی کوشش يا سازش کا مرتکب قرار پائے، اس کی سزاعمر قيد يا موت ہوگی۔

يہاں پر آئين سے مُراد 23 مارچ 1956 کے بعد سے لاگو ہونے والے تمام آئين ہيں۔

Article 6

Tabool ads will show in this div