اقوام متحدہ امن مشن کانگو: پاکستانی خواتین کوتمغوں سےنوازا گیا

ایلس ویلز بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئیں

اقوام متحدہ امن مشن کانگو میں امن کےلیے سرگرم عمل پاکستانی خواتین کے پہلے 15 رکنی دستے کو بہترین کارکردگی پر تمغوں سے نوازا گیا۔

میجر سامیہ رحمن کو کانگو میں بہترین کارکردگی پر اقوام متحدہ تعریفی سند دی گئی۔ میجر عروج عارف کو 5 گھنٹے میں 25 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے پر پہلی ڈینکن مارچ خاتون کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ میجر سادیہ دو سال کیلئے اقوام متحدہ تربیتی ٹیم کا قابل فخر حصہ ہیں۔

پاکستانی خواتین نے ملک کا نام روشن اور مثبت تشخص اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس کا 16 فروری سے 4 روزہ دورہ بھی ان خدمات کا اعتراف ہے۔

امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئیں۔ ایلس ویلز نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین کا کردار نہایت متاثر کن اور امن کےلیے خدمات کلیدی ہیں۔

کانگو امن مشن میں پاکستانی خواتین فوجی، پولیس افسران، سافٹ ویئر انجنئیرز کے طور پر خدمات میں مصروف ہیں جبکہ دستے میں شامل خواتین، ماہر نفسیات، ڈاکٹرز اور صنفی مشیر کے طور پر بھی خدمات دے رہی ہیں۔

اقوام متحدہ چھتری تلے تاحال 78 پاکستانی خواتین امن مشن کا حصہ ہیں۔ پاکستان 19 جون 2019 میں کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے۔ کانگو میں دو خواتین دستے تعینات ہیں، جبکہ وسطی جمہوریہ افریقہ میں مارچ تک ایک دستہ تعینات ہوگا۔

اقوام متحدہ امن مشنز میں اب تک 450 خواتین امن خدمات انجام دے چکی ہیں۔ بین الاقوامی امن و استحکام مرکز نے 39 خواتین امن مشن اہلکاروں کو تربیت فراہم کی جبکہ بین الاقوامی اداروں سے 23 خواتین امن مشن اہلکاروں نے تربیت حاصل کی۔

UNITED NATION

Tabool ads will show in this div