حکومت انتقامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،احسن اقبال

انکےاپنےمشیرنےاتفاق کیاکہ ملک میں مہنگائی ہے

قومی اسمبلی میں رکن پارلیمنٹ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی معشیت کے اعداد شمار آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے پاس شاید ہم سے بہتر ہوتے ہیں،صرف ایک تبدیلی ہے کہ ن لیگ کی جگہ تحریک انصاف کی حکومت آگئی ہے،معیشتیں صرف پالیسیاں بنانے سے نہیں چلتی، اس حکومت نے انتقامی ایجنڈا شروع کیا، آج پانچ لاکھ سے پانچ ارب تک ہر کوئی معیشت سے اپنا سرمایہ نکال رہا ہے،پاکستان کے نوجوان یورپ، امریکہ، آسٹریلیا کی امیگریشن لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

جمعرات کو احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک قیدی کو بیان کیلئے زیادہ وقت دینا چاہیے کیوں کہ وہ ایوان کے باہر نہیں بول سکتا، مشیر اطلاعات فردوس عاشق کا شکریہ کہ انہوں نے کہا کہ ملک میں کمر توڑ مہنگائی ہے، حکومت کے اپنے مشیرنے اتفاق کر لیا کہ ملک میں مہنگائی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 18 مہینے میں حکومت نے ناتجربہ کاری کیساتھ عوام اور معیشت کو اس جگہ تک پہنچا دیا، ملک میں 14 فیصد تک افراط زر پہنچ گیا،بدترین اقتصادی بحران مین میڈ ہے جس کے پیچھے اس حکومت کی نااہلی نالائقی اور ناتجربہ کاری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آج سے 18 ماہ پہلے معیشت 5.8 فیصد سے بڑھ رہی تھی جسے 2 فیصد پر لا کھڑا کیا گیا، بجٹ کی تقاریر کا ریکارڈ نکلواکر دیکھیں  تو معلوم ہوگا کہ اپوزیشن نے نشاندہی کی تھی کہ حکومت کے اس بجٹ سے بےحد افراط زر ہوگا اوربے روزگاری غربت ہوگی، اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ بجٹ ملک میں روزگار پیدا کریگا ۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم بھی امریکہ کے ان تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں جہاں سفارش سے داخلہ نہیں ملتا، عوام کے مسائل پر نمائندے جو بات کرسکتے ہیں وہ کوئی نہیں کرسکتا، عوامی نمائندے حق رکھتے ہیں کہ ووٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کریں اور ان کی پالیسیوں کا ایکسرے کریں۔

لیگی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جنوری 2018 میں ورلڈ بنک نے پاکستان کیلئے 2019 میں 5.8 فیصد 2020 میں 6 فیصد گروتھ ریٹ پروجیکٹ کیا تھا، کیا ورلڈ بنک سے ہمارے قرضوں کا حجم اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھپا تھا۔

Tabool ads will show in this div