حکومت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کی توہین کی، اسحاق ڈار

عدالت نے 27 جنوری کو نیلامی سے روک
Feb 08, 2020

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وفاقی اور پنجاب حکومت پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے میری رہائشگاہ کو بےگھر لوگوں کےلیے پناہ گاہ قرار دےکر توہین عدالت کی۔

ٹویٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کےخلاف کام کیا ہے اور اس کےلیے میں عدالت جاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 28 جنوری کو میری رہاشگاہ کو نیلام کرنا چاہتی تھی لیکن 27 جنوری کو عدالت نے نیلامی سے روک دیا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ جب یہ نیلامی میں ناکام ہوئے تو پنجاب حکومت نے میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کےلیے پناہ گاہ بنا دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ’’ریاستی دہشتگردی‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے مجھے مفرور قرار دیا جانے کا فیصلہ بھی غلط ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کا الزام درست نہیں۔

لاہور، اسحاق ڈار کا گھر پناہ گاہ میں تبدیل

گزشتہ روز پنجاب حکومت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کو نادار افراد کےلیے پناہ گاہ بنا دیا ہے جس میں 40 افراد رہ سکیں گے۔ انتظامیہ نے رہائش گاہ ميں لوگوں کےليے بيڈز لگا ديے ہیں اور پناہ گاہ ميں آنے والوں کےليے ڈائننگ ہال بھی بنا ديا گيا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پناگاہ کے تمام کمرے ايئر کنڈيشنڈ ہيں اور اس میں خواتين کے ليے الگ کمرے مختص کیے گئے ہیں۔

نیب نے احتساب عدالت سے استدعا کی تھی کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں۔ ان کی پاکستان میں موجود تمام جائیداد فروخت کرنے کی اجازت دی جائے مگر عدالت نے نیلامی کی اجازت نہیں دی۔

Tabool ads will show in this div