ڈاکٹرزکی جانب سےجنسی تفریق،مریضوں کومشکلات

تعلقات اخلاقی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں

جس خطےمیں ہم رہتے ہیں وہاں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعلقات اخلاقی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کےذاتی خیالات ان کے پیشہ ورانہ امورمیں دخل اندازی کرتے ہیں اور مریض کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ گائناکولوجی کے شعبے میں یہ مسائل زیادہ سامنے آتے ہیں۔

مسائل کی ابتدا میڈیکل کالج سے شروع ہوجاتی ہے جہاں زیرِتعلیم لڑکوں کولیبرروم میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے اور ان کی گائناکولوجسٹ اور ماہرامراض خواتین بننے سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جو لڑکے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ کبھی خواتین کو درپیش صحت کے مسائل نہیں جان سکتے اور یوں آگے چل کر صحت کے نظام میں بہتر ڈاکٹر نہیں بنتے۔

کراچی ادب فیسٹول میں گائناکولوجسٹ پروفیسرڈاکٹرسعدیہ احسن پال نے بتایا کہ یہ مسائل ان ٹیچرز کی وجہ سے زیادہ سامنےآتے ہیں جو یہ تفریق کرتے ہیں۔ بیرون ملک مرد گائناکولوجسٹ کی تعداد خاتون گائناکولوجسٹ سے زیادہ ہے تاہم پاکستان میں معاشرتی مسائل کے باعث خواتین مریض مرد ڈاکٹرز سے چیک اپ کروانے میں اجتناب کرتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر آپ باقاعدہ رضامندی سے پوچھیں گے تو خواتین مریض مرد ڈاکٹرز سے علاج کروانے کےلیے رضامند ہونگی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اہم بات ہے کہ یہ مسئلہ صرف گائناکولوجی کے شعبے تک محدود نہیں۔ میڈیکل کالجز میں 90 فیصد لڑکیاں پڑھتی ہیں،ان میں سے اکثریت مرد مریضوں کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتی۔

انھوں نے ایک واقعہ سنایا جب کراچی کے سول اسپتال میں مرد مریض کی پیشاب کی نالی میں ٹیوب لگانے کےلیے مرد سرجن کو رات 3 بجے بلانا پڑا کیوں کہ جس وارڈ میں مریض داخل تھا وہاں اس وقت صرف خواتین اسٹاف ڈیوٹی پر تعینات تھا اور انھوں نے ٹیوب لگانے سے انکار کردیا تھا۔

ڈاکٹرسعدیہ نے بتایا کہ یہ طب کے پیشے کے لیے قابل قبول نہیں اور ڈاکٹرز کسی صورت انکار نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ مریض کی جنس کی ڈاکٹر کے لیے اہمیت نہیں ہونی چاہئے، تمام مریضوں کا یکساں علاج ہونا چاہئے۔

اس سیشن میں موجود خواتین نے بھی ڈاکٹرز کے ساتھ اپنے تجربات شئیر کئے اور بتایا کہ کس طرح ان کا علاج متاثر ہوا۔ ایک خاتون نے یہ بھی بتایا کہ وہ جب بھی کسی گائناکولوجسٹ کے پاس گئیں،ان سے یہ سوال ضرور ہوا کہ کیا وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس خاتون نے گائناکولوجسٹس کے پاس جانا ہی بند کردیا۔

مریضوں کو دی جانے والی مہنگی ادویات

مریضوں کو درپیش مشکلات میں ادویات کی قلت اور زیادہ قیمتوں کے مسائل بھی ہیں۔

سماء ایف ایم کے میزبان اور صارفین کے حقوق کےعلمبردارسیدعدیل اظہر کے مطابق علاج کی سہولیات کا خرچہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جان بچانے والی ادویات کی مارکیٹ میں یا تو زیادہ قیمت ہوتی ہے یا ان کی قلت ہوتی ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور حکومت کی پرائسنگ پالیسی اس کی ذمہ دار ہیں۔

سیشن کے ایک پینالسٹ فرقان نے بتایا کہ فارما کمپنیاں کاروبار کرتی ہیں،اگر کمپنی کو ایک دوا سے زیادہ منافع نہیں ہوتا تو اس دوا کو باہر سے منگوانا بند کردیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں کسی دوا کو استعمال کرنے کے لیے فارماسیوٹیکل کمپنی کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس طریقہ کار میں ایک سے دو برس لگ جاتے ہیں،اس کے بعد قیمت کے تعین پر بحث ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس ہی وجہ سے کینسر کی ادویات کی فراہمی متاثر ہوئی اور پاکستان میں اس کی شدید قلت ہوگئی۔

ADABFEST2020

Tabool ads will show in this div