پاکستان میں کروناوائرس سے زیادہ تیزی سے پھیلتی غلط معلومات

وزارت صحت کے نام پرجعلی نوٹیفکیشن وائرل
Feb 04, 2020

چین میں کرونا وائرس کی وباسامنے آنے کے بعد سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے ذریعے نت نئے مفروضے پھیل رہے ہیں۔

جان لیوا بیماری سے لاحق خطرات و خدشات کے بارے میں معلومات دینے کے علاوہ ٹوٹکے اور احتیاطی تدابیر بھی بتائی جارہی ہیں باوجود اس کے کہ یہ سب قابل اعتبارنہیں ہیں۔

ایسے میں وزارت صحت پاکستان کی جانب سے ایک ہنگامی نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں کرونا وائرس کو انتہائی سنگین اور مہلک بتایا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں دی جانے والی ہدایات کے مطابق حلق کو تررکھنے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ ایک خاص درجہ حرارت پرپانی پینا اور خاصی مقدار میں وٹامن سی لینے کی ضرورت ہے۔

یہ بالکل جعلی نوٹیفکیشن ہے،عوام کو غط تصاویر اور جھوٹے کیسز سے گمراہ کیا جارہا ہے۔

ایک اور وائرل نوٹیفکیشن میں جسے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ ظاہر کیا جارہا ہے، دعویٰ کیا جارہا ہے کہ عوام کو 60 روز تک بکری کے گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ وہ وائرس کا شکار نہ ہوں۔

یہ نوٹیفکیشن بھی جعلی ہے اور اس حوالے سے درستگی کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے ہزاروں کی تعداد میں فیس بک پر پوسٹ کرنے کے علاوہ ان گنت تعداد میں واٹس ایپ پر بھی شیئر کیا گیا۔

ایسی صورتحال میں سوات میں حکام کی ایک لیک دستاویز نے یہ تاثر دیا کہ خطے میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آرہے ہیں جنہیں افراتفری سے بچنے کیلئے سامنے نہیں لایا جارہا۔

دستاویز وائرل ہونے کے بعد صحافیوں نے بغیر تصدیق کیے اسے ٹویٹ کرنا شروع کردیا۔ بالآخر ڈسٹرکٹ کمشنر سوات کو اس حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ سچ نہیں ہے۔ خط میں جس مریض کا ذکرہے اسے وائرل انفیکشن ہوا جس کا کرونا سے کوئی تعلق نہیں۔

عوام کی بڑی تعداد انٹرنیٹ پر ہھیلنے والی غلط خبروں کے اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی لیکن درحقیقت ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بغیر تصدیق کیے کسی بھی مواد پر یقین کرنا چاہیے نہ ہی اسے شیئر کرنا چاہیے۔

یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ صحافی بھی غیر تصدیق شدہ خبریں پھیلا رہے ہیں جو کہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے۔ صرف قابل اعتبار ذرائع پر بھروسہ کرنا ، اور ایسے کسی بھی قسم کے مواد کی متعلقہ دفاتر یا آفیشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کی تصدیق اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

Tabool ads will show in this div