چین میں وائرس کے باعث پاکستان میں مہنگائی

ذخیرہ اندوز متحرک
Jan 31, 2020

کرونا وائرس کے باعث چین سے پاکستان درآمد ہونے والے موبائل فون اسپئرپارٹس اور لوازمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ مارکیٹ میں متعدد دیگر اشیا بھی مہنگی ہوسکتی ہیں۔

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کرونا وائرس اب تک 200 لوگوں کی جانے لے چکا ہے جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے مزید خطرات کے پیش نظر پوری دنیا میں ہلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

کراچی کی مرکزی موبائل مارکیٹ کے بیوپاری محمد احمد کا کہنا ہے کہ چین میں نئے سال کے موقع پر ایک ماہ کی چھٹی کے باعث پہلے ہی موبائل فون کے پرزے اور لوازمات کی سپلائی بند تھی۔ اب کرونا وائرس کے باعث ان اشیا کی فراہمی مزید لمبے عرصے کیلئے معطل ہوسکتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں چین سے کوئی سامان یا کنٹینر آتا ہوا نہیں دیکھ رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منافہ خوروں نے پہلے ہی موبائل لوازمات جمع کرنا شروع کردیئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صارفین ابھی بھی موبائل فون کے پارٹس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے بارے میں بخوبی آگاہ نہیں ہیں کیونکہ یہ کوئی اشیاء خوردنوش نہیں ہے لیکن موقع پرست اس سے بخوبی واقف ہیں اور انہوں نے پارٹس ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے۔

محمد احمد کے مطابق ایسے حالات ناجائز منافع خور افراد کو  موقع فراہم کرتے ہیں اور وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ میں سنسنی پھیلاتے ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ انہیں جمعرات کو باضابطہ نوٹیفکیشن موصول ہوا ہے جس کے بعد اگلی اطلاع تک چین اور اس کے راستے سے ہر قسم کی فلائٹ پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں۔ اس میں کمرشل اور کارگو دونوں پروازیں شامل ہیں۔

سی اے اے نے تصدیق کی کہ سابقہ ہدایت کے مطابق 22 جنوری کو بند ہونے والی فلائٹ آپریشن دو فروری کو دوبارہ شروع ہونا تھی لیکن اب غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ہم کسی حتمی فیصلے کے بارے میں نہیں بتاسکتے۔

سی اے اے حکام نے بتایا کہ آج بھی پرواز طے شدہ تھی لیکن ظاہر ہے کہ وہ منسوخ ہوگئی۔

موبائل فون پارٹس کے ایک امپورٹر کا کہنا تھا کہ چین اگرچہ موبائل فون اور الیکٹرانک لوازمات کی بنیادی مارکیٹیں ہیں تاہم وائرس کے باعث دیگر اشیاء جیسے کہ ڈائپرز، کپڑے اور جیولری وغیرہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے جو کافی حد تک چین سے ہی درآمد کئے جاتے ہیں۔

ایک امپورٹر محمد عادل کا کہنا تھا کہ کئی تاجر ایسے ہیں جو ہر ماہ 30 سے زائد کارگو درآمد کرتے ہیں تاہم اب روزانہ کی بنیاد پر فلائٹس منسوخ ہورہی ہیں جس کے باعث آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ درآمدات میں کتنی تاخیر ہورہی ہے اور اس سے کتنا خلا پیدا ہوسکتا ہے۔

بعض کاروباری حضرات کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری حکومت کو سوچنا چاہیے کہ مقامی پیداوار کے بجائے دوسرے ممالک پر زیادہ انحصار ہمیں کسی بھی لمحے معاشی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر گذشتہ سہ ماہی میں صرف چین سے 613 بلین روپے کا سامان درآمد کیا گیا تھا، جو اس عرصہ میں ہماری پوری درآمد کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔

کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ بحران کے پیش نظر ملک کو مقامی صنعتوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مستکم کرنا ہوگا اور پاکستان میں ایسی اشیاء بنانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

CHINA

corona virus

Tabool ads will show in this div