Election

تھرپارکر، مندر کی بےحرمتی کے الزام میں بچے گرفتار

عدالت نے سزا دے دی

سندھ کے ضلع تھرپارکر میں مندر کی بے حرمتی کے الزام میں 4 بچوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

واقعہ ضلع تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیش آیا ہے۔ یہاں کے دیہاتوں میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ساتھ رہتے ہیں اور چند گھروں پر مشتمل گاؤں میں مسجد اور مندر دونوں موجود ہوتے ہیں۔

پولیس اسٹیشن چھاچھرو کے ایس ایچ او حسین بخش نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پریمو چرن گاؤں میں اسکول کے راستے پر ایک مندر بھی قائم ہے۔ 25 جنوری کو بچے اسکول سے واپس گھر جا رہے تھے۔ راستے میں وہ پیاس بجھانے مندر میں داخل ہوئے۔ لیکن اندر پانی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کھانے پینے کی چیزیں تلاش کیں مگر کچھ بھی نہیں ملا۔ مایوس ہونے پر بچوں نے مورتی پر پینٹنگ کی اور دیگر سامان کو بھی نقصان پہنچایا۔

اگلے دن پریم کمار نامی شخص مندر گیا تو اس نے مندر کی صورتحال دیکھی اور پولیس کو مقدمہ درج کرنے درخواست دے دی۔ پولیس نے 4 بچوں کو گرفتار کرلیا اور مقامی عدالت نے انہیں سزا کے طور پر کمسن بچوں کے اصلاحی مرکز بھیج دیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی ویرجی کوہلی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ وہ اس واقعہ سے آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس ملزمان تک پہنچنے کیلئے ’قدموں کے نشان‘ کے پیچھے جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

پولیس نے مقامی لوگوں کی مدد سے قدموں کے نشان کا پیچھا کیا تو ان چاروں بچوں تک پہنچ گئی۔  مقامی لوگوں قدم کے نشان کے ذریعے کسی کو تلاش کرنے میں ماہر ہیں۔ اسے لوک دانش میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ علم مقامی افراد میں بزرگوں سے نئی نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔

وجی کوہلی نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں بھی مذموم مقاصد کیلئے بچوں کا استعمال کیا گیا۔ خودکش دھماکے بھی بچوں سے کروائے گئے۔

ہم اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ اس واقعہ میں بھی بچوں کو کسی نے ابھارا یا انہوں نے خود سے یہ حرکت کی۔

وزیراعلیٰ کے مشیر نے کہا کہ ان کو سخت سزا نہیں مل سکتی کیوں کہ وہ بچے ہیں۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 کے تحت کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے اور کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کی بے حرمتی کرنا جرم ہے۔

MINORITIES

Tabool ads will show in this div