کالمز / بلاگ

برف کے مقبروں تلے دبی یادیں

لینڈ سلائیڈ نے ہنستے بستے گھر اجاڑ دیئے
فائل فوٹو

وادی نیلم میں برف کا تودہ کیا گرا، زندہ بچنے والوں نے اپنے دل پر یادوں کی سل رکھ لی۔ برف کے مقبروں تلے دبی یادیں اب ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔ مکانات برف کی قبریں بن گئِیں اور مرنے والوں کی یادیں رہ گئِیں۔

کسی کو اپنے پیارے کی تصویر ہاتھ لگی تو کسی کو خاموش برتن، کہیں کوئی گم صم اکیلا انسان یادوں میں ڈوبا ملا، تو کوئی گھر کی قلقاریوں سے محروم رہا۔ کہیں کسی کھلونے نے باپ کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ، کہیں کوئی ماں گڑیا جیسی بچی سے محروم رہی، وہ محض نکالی جانے والی لاشیں نہیں تھیں جن کو دفن کیا گیا۔

آزاد کشمیر میں سال 2020 میں لینڈ سلائیڈنگ نے جیتے جاگتے انسانوں کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا۔ ان کے ساتھ لوگوں کی خوشیاں، ان کے ارمان ، ان کے خواب بھی دفن ہوگئے۔ وادی کا حسن اپنی جگہ برقرار ہے اور جلد یا بدیر برف ہٹا لی جائَے گی لیکن ان رستوں پر چلنے والے لوگ کہِیں نظر نہیں آئیںگے۔ سیاح رونقیں بخشتے رہیں گے، برف کی دلدل میں رہنمائی کرنے والوں کو یاد رکھیں گے۔

وادی نیلم کے دامن میں پکھراج جیسے لوگ بھی تھے، جو مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے، زندگی رواں دواں ہے، اب بھی ہمسائے ایک دوسرے سے ملتے ہیں حال چال پوچھتے ہیں، برف کی ٹھنڈی در و دیوارکی گرم جوشی لوٹ کر آرہی ہے۔ دلوں کا دردچہروں پرمحسوس کرنے کے لئے وہ آنکھیں بھی روشن ہیں جوہ کبھی مسکراتے چہروں میں دھنک کی مانند نظر آتی تھی۔

LandSliding

Tabool ads will show in this div