تین سال سے زنجیر میں جکڑی تھرپار کی دیوی

والد علاج سے قاصر
Jan 24, 2020
[video width="848" height="480" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/WhatsApp-Video-2020-01-24-at-3.19.32-PM-1.mp4"][/video]

سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں صدمے کے باعث دماغی توازن کھونے والی خاتون 3 سال سے زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں جبکہ والدین غربت کے باعث علاج سے قاصر ہیں۔

تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو کے علاقہ بھگتانی کی رہائشی 30 سالہ شریمتی دیوی میگھواڑ کا 6 ماہ کا بچہ تین سال قبل غذائی قلت کے باعث انتقال کرگیا تھا۔ کمسن بیٹے کی جدائی کا صدمہ شریمتی دیوی میگھواڑ برداشت نہ کرسکی اور دماغی توازن کھو بیٹھی۔

دوسری جانب والدین آگہی نہ ہونے اور غربت کے باعث اپنی بیٹی کا علاج نہ کرواسکے اور اس کو زنجیروں میں جکڑ دیا۔ شریمتی دیوی میگھواڑ کے والد نے بتایا کہ اس کا بچہ فوت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد یہ پاگل ہوگئی ہے۔

دیوی کا دماغی توازن بگڑنے کے بعد اس کے شوہر اور سسرال والوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ اب اس کی دیکھ بھال کیلئے باپ کے علاوہ کوئی نہیں۔ بیٹی کی حالت دیکھ دیکھ کر باپ کی حالت بھی قابل رحم ہوگئی ہے۔

اہل علاقہ بھی اس صورتحال سے واقف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے تھا اگر وقت پر علاج ہوجاتا تو دیوی ٹھیک ہوسکتی تھی تاہم اب بھی اسے علاج کی انتہائی ضرورت ہے۔

ایک مقامی ڈاکٹر جودومل میگھواڑ نے بتایا کہ دیوی کا باپ انتہائی غریب ہے اور تین سال سے امید لگائے بیٹھا ہے کہ کوئی مسیحا آگے بڑھ کر اس کی بیٹی کا علاج کروائے۔

Tharpakar

Tabool ads will show in this div