کالمز / بلاگ

پنجاب کے بعد بلوچستان حکومت بھی خطرے میں

اپنے ارکان نے بغاوت کردی
Jan 22, 2020

پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے بعد بلوچستان میں جام کمال خان کی وزارت اعلیٰ بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان نے اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف بغاوت کردی۔ اس سے قبل پنجاب میں تحریک انصاف کے 20 ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الگ گروپ بنا چکے ہیں اور بزدار کی رخصتی کی خبریں شدت پکڑگئی ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف بغاوت شروع ہوچکی ہے۔ ہم بلوچستان میں نیا وزیراعلیٰ لانا چاہتے ہیں۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ جام کمال خان پر ارکان اسمبلی عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ جام کمال نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے بند کردیے ہیں۔ اس لیے ہم پارٹی کے اندر تبدیلی چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ عبدالقدوس بزنجو اور جام کمال خان کا تعلق پراسرار طور پر وجود میں آنے والی بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی اتحادی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی وجود میں لاکر قدوس بزنجو کو وزیراعلیٰ بنوایا گیا تھا۔

عبدالقدوس بزنجو اس سے قبل بھی اپنی ہی پارٹی کی حکومت اور وزیراعلیٰ کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے اسپتال کے بیڈ پر لیٹ کر بلوچستان کے اسپتالوں کی حالت زار کی نشاندہی کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

قدوس بزنجو نے ندیم ملک کے پروگرام میں بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کسی کی میراث نہیں۔ ہم پارٹی کے اندر تبدیلی چاہتے ہیں جس کے لیے اپوزیشن کے 25 ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ہمارے لئےنئی حکومت بنانا کوئی مشکل نہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا میرے ہوئے ہوئے انہیں حکومت چلانے میں مشکل ہوگی۔ اس لیے جام کمال خان نے مجھےگورنر بنانے کی پیشکش بھی کی تھی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے صوبائی حکومت کو فی الحال ایسی کسی صورتحال کا سامنا نہیں ہے۔

[iframe width="640" height="360" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0" marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/k-JrxbFAuMQ"]

Politics

Tabool ads will show in this div