امریکا ایران جنگ سے پاکستان کو شدید نقصان ہوگا، عمران خان

ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا
Jan 22, 2020
Photo: Twitter/@KhalilHashmi
Photo: Twitter/@KhalilHashmi
[caption id="attachment_1822977" align="alignnone" width="800"] Photo: Twitter/@KhalilHashmi[/caption]

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ سے پاکستان کو شدید نقصان ہوگا، ہم کبھی کسی اور کی جنگ کاحصہ نہیں بنیں گے، روز اول سے ہی جنگ کے بجائے مسائل بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا، پاکستان میں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہے، ہمیشہ افغانستان سے دہشت گردی پاکستان آئی، پاکستان کیلئے 2020ء روزگار کے مواقع اور شرح نمو میں اضافے کا سال ہوگا۔

سوئٹزر لنڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ماحولیات آلودگی کیخلاف درختوں کی اہمیت کو اجاگر کیا، انہوں نے کہا کہ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ قدرتی حسن کی حفاظت کی جائے، خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا، یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا، ہم نے مقامی آبادی کو درختوں کی اہمیت سے آگاہ کیا، شہروں میں آلودگی خاموش قاتل بن گئی ہے۔

مزید جانیے : پاکستان اور بھارت میں فوری جنگ کا خطرہ نہیں، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، صدر ٹرمپ کو بتایا کہ امریکا، ایران جنگ سے پاکستان کو شدید نقصان ہوگا، ہم کبھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم نے ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی ختم کرانے کی کوشش کی، امریکا اور ایران میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کررہے ہیں، پاکستان افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امن و سلامتی کے بغیر معاشی استحکام ناگزیر ہے، حکومت ملی تو ملک بڑے معاشی بحران کا شکار تھا، معیشت کی بحالی پر اپنی معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، معاشی حالات کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑے، وقت گزرنے کے ساتھ روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے، ملک میں سرمایہ کاری لارہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کئے، 2020ء روزگار میں اضافے اور شرح نمو میں اضافے کا سال ہوگا۔

مزید جانیے : وزیراعظم سے عالمی مالیاتی، ٹیکنالوجی اداروں کے سربراہوں کی ملاقاتیں 

عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان طبقے پر مشتمل ہے، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے پروگرام وضع کیا ہے، اس کیلئے کثیر سرمایہ لگایا جارہا ہے، حکومت کی تمام تر توجہ معدنی وسائل کو بروئے کار لانے پر ہے، ماضی میں پاکستان گورننس کے مسائل سے دوچار رہا، ملکی اداروں کو مستحکم بنانا ہمارے لئے بڑا چیلنج ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خطے میں جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کو خاص اہمیت حاصل ہے، افغانستان میں امن کے بعد وسط ایشیا کی مارکیٹ تک رسائی ہوگی، ماضی میں بدامنی کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہوئی، بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات خوشگوار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کسی جنگ کاحصہ نہیں بنے گا،عمران

عمران خان نے سیاحت کے فروغ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء اور 2019ء میں ملک میں سیاحت میں بے پناہ اضافہ ہوا، پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے تاریخی مذہبی مقامات ہیں، دنیا بھر کے بلند ترین پہاڑوں کا سلسلہ پاکستان میں ہے، سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری متعارف کرا رہے ہیں۔

 وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہے، ہمیشہ افغانستان سے دہشت گردی پاکستان آئی، پُرامن افغانستان سے دہشت گردی ختم ہوگی، افغان امن سے پاکستان کی وسط ایشیا ریاستوں تک تجارتی رسائی ممکن ہوگی، طالبان اور حکومت میں مذاکرات سے ہی افغانستان میں پائیدار امن ہوگا، سمجھ سے بالاتر ہے کہ ممالک جنگ سے مسائل کا حل کیوں نکالنا چاہتے ہیں، جنگ شروع کرنا آسان ختم کرنا مشکل ہے، روز اوّل سے ہی جنگ کے بجائے مسائل بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔

IMRAN KHAN