زندگی تماشا:دھمکیاں ملنےکےبعدسرمد کھوسٹ کاایک اورکھلاخط

معروف شوبزشخصیات نےفلم کےحق میں آوازبلند کردی
Jan 20, 2020

معروف اداکاراور ہدایت کارسرمد کھوسٹ کی نئی فلم ’’ زندگی تماشا ‘‘ کی ریلیزکیلئے درپیش مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ سرمد کھوسٹ نے دھمکی آمیز فون کالز اور پیغامات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری کیےجانے والے ایک اور کھلے خط میں رائے طلب کی ہے کہ کیا انہیں اس فلم سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔

اس سے قبل وزیراعظم اور دیگرکے نام کھلا خط لکھنے والے سرمد نے پاکستان اور پاکستانیوں کو فلم کی نمائش میں رکاوٹ ڈالے جانے سے متعلق تفصیل سے انہیں ملنے والی دھمکیوں کا بتایا۔

سرمد کھوسٹ نے اپنے کھلے خط میں واضح کیا کہ زندگی تماشا کسی کو تکلیف دینے ، اذیت پہنچانے یا بدنام کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی بلکہ اس کی کہانی ایک اچھے مسلمان سے متعلق ہے۔فلم میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں ہے اور اسے سنسر بورڈ کی جانب سے بھی کلیئرکیا جا چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس میں کسی فرقے ، پارٹی یا گروہ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اگر ایک داڑھی والے آدمی کو مولوی کہا جاتا ہے تو یہ فلم ایک اچھے مولوی سے متعلق ہے۔ اس کی دل گداز کہانی، وہ ایک انسان ہے اور جسے ایک انسانی آنکھ کے ذریعے ہی دکھایا گیا ہے۔

سرمدکھوسٹ نے اپنے خیالات واضح کرتے ہوئے کہا کہ بطور ایک آرٹسٹ وہ آخری کام جو وہ اپنے کام سے حاصل کرنا چاہیں گے انتشار یا نفرت پھیلانا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی کو بھی ان کی فلم پر پابندی سے خوشی ہو کیونکہ قانونی، سرکاری اوراخلاقی طور پر وہ اسے ریلیز کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

خط میں سرمد نے مزید لکھا کہ تکمیل کے بعد فلم تینوں سینسربورڈز سے کلیئر کردی گئی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے بھی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کا استعمال کرتے ہوئے نفرت اور غصہ نہ پھیلانےکی درخواست کی۔ سرمد نے نے زور دیکر لکھا ’’مذہب کے نام پر نفرت ، خوف اور غصے کو ہوا مت دو‘‘۔

طویل خط کے آخر میں سرمد نے لکھا’’ اپنے اللہ کو نہ بتاؤ کہ تمہاری مشکل کتنی بڑی ہے، اپنی مشکل کو بتاؤ کہ تمہارا اللہ کتنا بڑا ہے‘‘ ، اس لیے یہ معاملہ میں اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں۔

انسٹا پر ایک اور پوسٹ میں سرمد نے ایک اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا یہ یہ ان سیکڑوں دھمکی آمیز پیغامات میں سے ایک ہے جو انہیں موصول ہو رہے ہیں۔ وہ ڈاکسنگ کا شکار ہیں کیونکہ نفرت انگیز پیغامات میں ان کا شناختی کارڈ اور فون نمبر تک شیئر کیا جا رہا ہے۔کھوسٹ نے یہ واضح کیا کہ وہ دھمکیاں دینے والوں کا نام نہیں لیں گے۔

ڈائریکٹر کی جانب سے اس کھلے خط کے بعد متعدد معروف شخصیات نے ان کے حق میں آواز اٹھائی۔

اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ اس سے فن کی طاقت اور اثر و رسوخ ظاہر ہوتا ہے کہ جو فلم لوگوں نے ابھی دیکھی بھی نہیں اس سے خوفزدہ ہیں۔

فلم میں کام کرنے والی ایمان سلیمان نے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم پاکستان کے لیے بنائی گئی تھی۔

میرا سیٹھی نے معاملے کو انتہائی پریشان کن قرار دیا۔

اداکارہ صنم سعید نے بھی سوال اٹھایا کہ سنسر بورڈز کی منظوری کے بعد بھی ایسا کیوں ہے؟

اداکار یاسرہ رضوی نے بھی سرمد کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلم کی بنیاد یہ ہے اصل میں ہم سب ہیں کون۔

ہمایوں سعید نے حکومت سے اس مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں فلم بنایا ایک بہت مشکل چیلنج ہے اور ایسا کرنے والوں کو سراہنا چاہیے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سرمد کے حق میں ٹویٹ کی۔

اس سے قبل اکتوبر 2019 میں فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹانے کے بعد نیا ٹریلراپ لوڈ کیا گیا تھا۔

ٹریلر کو ہٹانے سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کچھ لوگوں کی جانب سے ٹریلر میں شامل بعض مناظرکے حوالے سے خدشات کے بعد کیا گیا۔

سرمد فلم ’’ زندگی تماشا ‘‘کی ریلیز سے متعلق درپیش رکاوٹوں کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کو بھی کھلا خط لکھ چکے ہیں

انسٹا اور ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے اس خط میں سرمد نے اصدر پاکستان، وزیراعظم ، آرمی چیف ، چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراطلاعات کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ فلم 24 جنوری کو ریلیز کیلئےمقرر ہے۔ ڈھائی منٹ دورانیہ کا ٹریلر دیکھ کر مفروضوں کی بنیاد پرمصنف ، پروڈیوسر اور میرے خلاف شکایت درج کی گئی جبکہ فلم تینوں سنسر بورڈز سے پاس ہوچکی ہے۔

سرمد نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یآپ کے علم میں یہ بات اس لئے لا رہا ہوں کہ نہ صرف میری ٹیم اور مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے بلکہ تواتر سے ہونے والے واقعات کی وجہ سے سسنر بورڈ کی ساخت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔

سرمد کھوسٹ کی ہدايتکاری ميں بننے والی اس فلم کے مرکزی کرداروں میںعارف حسین، سمیعہ ممتاز، علی قریشی اور ایمان سلیمان شامل ہیں

اندرون لاہور کی زندگی کے تلخ حقائق ،نشيب و فراز اور گلی محلوں میں بسنے والے عام کرداروں کے گرد گھومتی فلم ”زندگی تماشا‘‘ ریلیز سے قبل ہی بوسان فلم فیسٹیول میں’’ کم جیسوئک‘‘ ایوارڈ بھی حاصل کرچکی ہے۔

ZINDAGI TAMASHA

SARMAD KHOOSAT

Tabool ads will show in this div