سندھ حکومت نےآئی جی سندھ کوہٹانےکی وجوہات بتادیں

افسرکی تبدیلی سندھ حکومت کااستحاق بھی ہے
Jan 16, 2020
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/Murtaza-Wahab-PC-Khi-16-01.mp4"][/video]

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ہم سب آئين و قانون کے تابع ہيں،سندھ اسمبلی میں اپوزيشن ليڈر نے آئی جی کے معاملے پرغلط بيانی کی، صوبائی اور وفاقی حکومت آئی جی کو واپس بھيج سکتی ہے۔

جمعرات کو سندھ اسمبلی ميں ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب اور شہلا رضا نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم سب آئين و قانون کے تابع ہيں، اپوزيشن ليڈر سندھ اسمبلی نے آئی جی کے معاملے پرغلط بيانی کی،صوبائی اور وفاقی حکومت آئی جی کو واپس بھيج سکتی ہے۔

مرتضٰی وہاب نے مزید بتایا کہ وزيراعلیٰ سندھ کی وزيراعظم عمران خان سے اسلام آباد ميں ملاقات ہوئی جس میں وزيراعلیٰ نے پرفارمنس کےحوالے سے معاملات سامنے رکھے، وزيراعلیٰ نے کہا کہ تنقيد کا سامنا پوليس کو نہيں سندھ حکومت کو کرنا پڑتا ہے، مرادعلی شاہ نے آئی جی سندھ سے متعلق تحفظات سے آگاہ کيا ہے۔

مرتضٰی وہاب نے مزید کہا کہ وزيراعظم سے وزيراعلیٰ کی ملاقات ميں آئی جی کی تبديلی پراتفاق ہوا، تحريک انصاف کے کچھ دوستوں نے يکطرفہ فيصلے کا الزام لگايا، بہتر ہوتا کہ تحريک انصاف کے دوست پہلے وزيراعظم سے پوچھ ليتے۔

ترجمان سندھ حکومت نے سوال اٹھایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا ميں آئی جی کی تبديلی پرکوئی سوال نہيں اٹھاتا، سندھ ميں آئی جی کے معاملے پر پوائنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گورنرسندھ عمران اسماعیل کا اس صورتحال میں کوئی لینا دینا نہیں،معلوم نہیں کہ گورنر سندھ غلط باتیں کیوں کررہے ہیں۔

MURAD ALI SHAH

MURTAZA WAHAB

Tabool ads will show in this div