مشرقِ وسطیٰ کےحالات نازک اورتشويشناک ہيں،شاہ محمود

پاکستان کسی یکطرفہ کارروائی کی تائیدنہیں کرتا
Jan 06, 2020

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطی کشیدگی اورعدم استحکام کا شکار رہا ہے،خطے کے بہت سے ایشوز ہیں جو حل طلب ہیں۔

پیر کو سینیٹ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 27 دسمبر کو راکٹ حملے کے ذریعے امریکی کنٹریکٹر مارا گیا، اس حملے میں متعدد امریکی بھی زخمی ہوئے تھے، ردعمل کے طور پر امریکی حملے میں حملہ آوروں کے 25 افراد مارے گئے اور عراق میں جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

شاہ محمود نے کہا کہ امریکا نے یکم جنوری کو ان ہلاکتوں کا ذمےدار ایران کو ٹھہرایا جبکہ امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کو ان حالات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا اور تین جنوری کوجنرل قاسم سلیمانی سمیت 9 افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان نے 3 جنوری کو اپنا نقطہ نظر پيش کيا اور اس صورتحال کی سنگينی کے باعث خطے کے اہم وزرائے خارجہ سے رابطے کيے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ايران کے وزير خارجہ سے تفصيلی گفتگو ہوئی ہے، يقينا ايران ميں غم و غصے کی کيفيت ہے جو فطری سی بات ہے، ترکی، سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے تفصيلی گفتگو ہوئی، چين کيساتھ رابطے ميں ہيں، گفت و شنيد چل رہی ہے۔

پاکستان کے کردار سے متعلق وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں، جس جن کو بوتل میں بند کیا تھا وہ دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے، موجودہ صورتحال سے خطہ عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے، تنازعہ بڑھنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کےحالات نازک اور تشويشناک ہيں اور کوئی بھی کروٹ لے سکتے ہيں۔ ايران کے سپريم ليڈر برملا انتقام لينے کا قوم سے وعدہ کرچکےہيں جبکہ صدرحسن روحانی نے اس کارروائی کو بين الاقوامی دہشتگردی قرار ديا، آيت اللہ سيستانی کہتے ہيں کہ عراق ميں غير ملکی افواج کی موجودگی اب قبول نہيں۔

وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال کے اثرات افغان امن عمل پر پڑسکتے ہیں، امريکا نے ساڑھے 3 ہزار مزيد فوجی کويت بھيج دئيے، موجودہ صورتحال کا اثر افغانستان پر بھی پڑسکتا ہے، موجودہ بحران سے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

Tabool ads will show in this div