الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی،حکومت کومزید مہلت

دواراکین تعینات ہونےہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے2 ممبران کے تقرر کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو 15 جنوری تک ایک اور مہلت دے دی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کیا 22 کروڑ عوام سے ایک بھی قابل بندہ نہیں مل رہا؟عدالت صرف اُمید ہی کرسکتی ہے کہ آئندہ سماعت تک معاملہ حل ہو جائے گا۔

منگل کو الیکشن کمیشن کے2 ارکان کی تعیناتی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کی گئی۔ قومی اسمبلی کے لیگل ایڈوائزر عبداللطیف یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ کل بروز پیر پارلیمانی کمیٹی کی آخری میٹنگ ہوئی، کچھ ارکان دھند کی وجہ سے اجلاس میں نہ آسکے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی کمیٹی کے لیے کام کرنے کے رولز کوئی مستقل نہیں ہیں۔ ہرتشکیل پانے والی پارلیمانی کمیٹی اپنے کام کے رولز طے کرسکتی ہے۔

انھوں نےاستفسار کیا کہ کیا موجودہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنے لیے کوئی رولز بنائے ہیں۔ پارلیمنٹ 22 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے،غلطی نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر 22 کروڑ میں سے ایک بندہ نہیں ڈھونڈ سکتے تو یہ غلط ہے۔ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہورہا تو یہ کوئی اچھا تاثر نہیں جارہا۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے دیئے ناموں پر اتفاق رائے نہیں ہورہا تو نئے نام سامنے لائیں، امید ہے آئندہ سماعت تک پارلیمنٹ عوام کو خوشخبری سنائے گی۔

کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

ELECTION COMMISSION

ISLAMABAD HIGH COURT

Tabool ads will show in this div