ایکسپریس ریٹنگ اسکینڈل،جعلسازی کی آڈیٹر نے بھی تصدیق کردی

اسلام آباد : ايکسپريس ريٹنگ اسکينڈل سے متعلق آڈيٹر نے بھي ميڈيا لاجک کے الزامات کي تصديق کردي، سالانہ رپورٹ ميں آڈیٹر نے پردہ فاش کرديا۔ جنوری دوہزار پندرہ سے ايکسپريس نیوز ديکھنے والوں کي تعداد اچانک بڑھ گئی، لیکن جب میڈیا لاجک کا  سالانہ آڈٹ ہوا تو ربورٹ رڈ نے سارا کچا چٹھا کھول دیا، پی بی اے کو  پریزینٹیشن میں روبرٹ رڈ نے اکتیس ہفتوں پر مشتمل آڈٹ کی تفصیلات پیش کیں۔ روبرٹ رڈ کے مطابق آڈٹ کے چوبیس سے انتیس ویں ہفتے ایکسپریس نیوز دیکھنے کا دورانیہ کئی گنا بڑھ گیا ، علاقے کے کئی گھرانوں نے ایک جنتا وقت ایکسپریس نیوز دیکھنے میں گزارا، ہفتے میں دو سو پینتالیس منٹ تک ایکسپریس دیکھا جانے لگا، ایک  ہفتے بعد دورانیہ  تین سو اٹھاسی منٹ تک پہنچ گیا۔ آڈیٹر نے یہ بھی بتایا کہ ایکسپریس نیوز کی ستر فیصد ریٹنگ، ٹمپرنگ کے ذریعے بڑھی، ٹمپرنگ کی ایسی مثال کہیں نہیں ملتی، انڈسٹری کو پنتالیس کروڑ نہیں بلکہ اربوں کا نقصان ہوا۔ پی بی اے نے نو ستمبردوہزار پندرہ  کو شوکوز نوٹس بھی جاری کیا، جس میں ٹمپرنگ کے شواہد ، ناظرین اور ملازمین کے حلف نامے بھی شامل تھے، ذارئع کے مطابق ایکسپریس نے نوٹس کا جواب دینے کے بجائے اپنے چینل کے ذریعے الزامات اور سازشی پروپیگینڈا شروع کردیا۔ پی بی اے نے جواب جمع کرانے کیلئے ایکسپریس کو دس دن کی مہلت دے دی ہے، میڈیالوجک کے آڈٹ کیلئے دوہزار چودہ میں رابرٹ رڈ کو مقرر کیا گیا تھا، تقرری کے وقت سلطان لاکھانی پی بی اے کے فنانس سیکریٹری تھے۔ سماء

group

EXPRESS NEWS

MEDIA LOGIC

AUDITOR

RATING

Tabool ads will show in this div