حکومت نے نیب کا دائرہ اختیار کم کردیا

صدارتی آرڈی ننس منظور
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/12/NAB-New-Ordinance-1800-Isb-Pkg-27-12.mp4"][/video]

اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود حکومت ایک اور صدارتی آرڈیننس لے آئی۔ وفاقی کابینہ نے نیب آرڈیننس 2019 کی منظوری دے دی جس کے مطابق نیب 50 کروڑ سے کم کرپشن اور اسکینڈل پر کارروائی نہیں کرسکے گا۔ ٹیکس سے متعلق معاملات پر نیب کا دائرہ اختیار ختم ہو جائے گا۔

وفاقی کابینہ نے سرکولیشن میسج کے ذریعے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی منظوری دے دی۔ آرڈیننس کی سمری وزارت قانون نے وزیراعظم آفس کو بھجوائی تھی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے پہلے ہی کابینہ ارکان نے سرکولیشن میسج کے ذریعے آرڈیننس منظور کرلیا جو اب صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق نیب محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ کارروائی صرف ایسے ملازمین کے خلاف ہوگی جن کے خلاف نقائص سے فائدہ اٹھانے کے شواہد ہوں گے۔

آرڈینس کے مطابق سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کارروائی ہوسکے گی جبکہ نیب 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن اور اسکینڈل پر کارروائی کرسکے گا۔

ٹیکس، اسٹاک اکسچینج اور آئی پی اوز سے متعلق معاملات میں بھی نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوجائے گا اور تین ماہ میں نیب تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہوگا۔

Curroption

Tabool ads will show in this div