مفتاح اسماعیل اور شرجیل میمن کی عبوری ضمانت منظور

جرم ثابت ہونےتک ملزم بےگناہ تصور ہوتا ہے،ریمارکس
Dec 23, 2019

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایل این جی کیس میں گرفتار لیگی رہنما مفتاح اسماعیل جبکہ سندھ روشن پروگرام میں جیالے رہنما شرجیل میمن کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم بے گناہ تصور ہوتا ہے۔

ایل این جی کیس میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی درخواست ضمانت پر سماعت وکیل صفائی نے بتایا ان کے موکل پر کنسلٹنٹ کی غیرقانونی تقرری کا الزم ہے جبکہ کنسلٹنٹ تو یو ایس ایڈ نے لگایا تاہم مفتاح اسماعیل تو اس وقت سوئی سدرن بورڈ میں تھے ہی نہیں۔

جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا ملزم کو جیل میں رکھنا کیوں ضروری ہے؟ جس پر نیب پراسیکیوٹرجہانزیب بھروانہ نے کہا کہ لیگی رہنما کے بیرون ملک فرار کا خدشہ ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم بے گناہ تصور ہوتا ہے تاہم وائٹ کالر کرائم میں گرفتاری کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ عدالت نے مفتاح اسماعیل کی ضمانت منظور کر تے ہوئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ ایل این جی کیس میں ایم ڈی پی ایس او عمران الحق کی ضمانت پہلے ہی ہوچکی ہے۔

دوسری جانب عدالت نے پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض سندھ روشن پروگرام میں پی پی رہنما شرجیل میمن کی یکم جنوری تک عبوری ضمانت بھی منظور کرلی۔

سپریم کورٹ نے شرجیل میمن کے وارنٹ گرفتاری معطلی کے خلاف نیب کی اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔

عدالت نے واضح کردیا کہ سندھ ہائیکورٹ کا وارنٹ معطلی کا فیصلہ کسی کیس میں بطور مثال استعمال نہیں ہوگا۔

SHARJEEL MEMON

Miftah Ismail

Tabool ads will show in this div