العزیزیہ ریفرنس:نيب پراسیکیوٹر واثق ملک پرحملےکامقدمہ درج

نیب پراسیکیوٹر کاتفتیشی ٹیم پرتحفظات کااظہار

العزیزیہ ریفرنس ميں نيب پراسیکیوٹر واثق ملک پر فائرنگ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ حملے میں واثق ملک محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے پراسیکیوٹر واثق ملک پر حملے کا مقدمہ تھانا لوہی بھیر اسلام آباد میں نیب پراسیکیوٹر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق فلائی اوور کے قریب موٹر سائیکل پرسوار 2 ملزموں نے 2 فائر کیے، پہلا فائر سر کے پاس سے گزرتا ہوا گاڑی کے پچھلے حصہ پر لگا، تاہم جب میں نے گاڑی تیز کی تو ملزمان نے دوسرا فائر کیا جو ونڈ اسکرین میں لگا۔

درج کی گئی ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واثق ملک کو اس سے قبل 7 بار دھمکی آمیز کالیں بھی موصول ہوچکی ہیں۔ یس پی انویسٹی گیشن اور انسپکٹر اشرف نے فون کالز کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

واقعہ کے خلاف نیب چیئرمین کی جانب سے مذمتی بیان بھی جاری کیا گیا۔ چیئرمین نیب نے اپنے بیان واقعہ پر تشویش کا اؓظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نیب پراسیکیوٹر کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس پی انوسٹی گیشنز کی سربراہی میں دو الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں، تاہم واثق ملک کی جانب سے دونوں پولیس افسران کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منگل کی رات نیب کے پراسیکیوٹر کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کی گاڑی پر سواں گارڈن کے قریب فائرنگ کی گئی، تاہم واثق ملک حملے میں محفوظ رہے۔

مقدمات کی پیروی

واثق ملک جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی قانونی ٹیم کے سربراہ ہیں اور پانامہ پراسیکیوشن ٹیم کا بھی حصہ رہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت بدھ کو ہو رہی ہے، جب کہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت بھی آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے۔

Al Azizia

Tabool ads will show in this div