عمران خان کی چارحلقوں میں دوبارہ گنتی سےمتعلق درخواست منظور

ویب ڈیسک:
اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان کی چار حلقوں میں دوبارہ ووٹنگ سے متعلق درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی گئی، جس کے بعد عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو چاروں متعلقہ حلقوں سے متعلق پندرہ روز میں جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں ووٹوں کی تصدیق کیلئے تحریک انصاف کی درخواست پر آج سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل لاہور اور ملتان کو بھی پندرہ روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں، فی الحال کوئی رائے نہیں دینا چاہتے۔

آج سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ صرف چار حلقو ں کا معاملہ نہیں، اگر ہم نے چار حلقوں کا فیصلہ سنا دیا تو کل سارے کھڑے ہو جائیں گے، سب بولیں گے کہ آپ نے ایک ہی پارٹی کی کیوں سنی۔ ان درخواستوں کو روکنا ناممکن ہو جائیگا۔

درخواست کی سماعت پر چیئرمین عمران خان خود عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ ہر انسان کا بنیادی حق ہے،الیکشن کے وقت حکمران جماعت سمیت دیگر پارٹیوں نے دھاندلی کا الزام لگایا، یہاں ساری پارٹیاں روتی رہیں کہ دھاندلی ہو رہی ہے، مئی2013ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نےدھاندلی کیخلاف مختلف فورمزپردرخواستیں دیں، درخواستوں میں باقاعدہ طورپرحلقوں کی نشاندہی بھی کی گئی، عام انتخابات میں عدالتی حکم کی دھجیاں بکھیری گئیں، عدالت نے موجودہ انتخابات کے شفاف انعقاد کا حکم دیا تھا، کئی الیکشن ٹریبونلزمیں دھاندلی کی درخواستیں زیرالتواء ہیں،مقرر120دن گزرجانےکےباوجوددرخواستیں نہیں نمٹائی گئیں۔

وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ درخواستیں نہ نمٹنے کے باعث سپریم کورٹ آنے پر مجبور ہوئے،ابتداء میں4حلقوں میں انگوٹھوں کےنشان کی تصدیق کی ہدایت کی جائے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین کے تحت اختیارات محدود ہیں،تجاوز نہیں کرسکتے،انتخابات سے متعلق معاملات کیلئے آئین میں فورم واضح ہیں۔ جس پر حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ سابق ججوں پر مشتمل الیکشن ٹریبونلز قائم کیے گئے،، اب آپ بتائیں ایسی صورت میں آزادانہ کام کیسے ہوسکتا ہے؟

جس کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود روسٹرم پر آگئے، عمران خان نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق اور عام آدمی کے ووٹ کے تقدس کا معاملہ ہے،4حلقوں کے جائزے سے انتخابی نتائج پر فرق نہیں پڑے گا،۔واحدالیکشن ہےجس میں تمام سیاسی جماعتوں نےدھاندلی کاالزام لگایا، میں پاکستانی شہری ہوں اور انہی کے لیے عدالت آیا ہوں، یہ کیسی جمہوریت ہوئی، جمہوریت تو صدام حسین اوردیگر آمر بھی لاتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بطور شہری اور کرکٹر آپ کی بہت عزت کرتے ہیں،یہ صرف4حلقوں کامعاملہ نہیں،،درخواست قبول کرلی تودرخواستوں کی لائن لگ جائےگی،سپریم کورٹ نےمعاملہ شروع کردیاتوکوئی انتہانہیں ہوگی، جس کے بعد عدالت نے 4حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی۔ سماء

میں

کی

دوبارہ

عمران

درخواست

خان

myanmar

comedian

complaint

Tabool ads will show in this div