پی آئی سی لاہور کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، چیف جسٹس

دونوں شعبوں کوخود احتسابی کے عمل سے گزرناہوگا، جسٹس کھوسہ

چيف جسٹس پاکستان نے لاہور کے اسپتال ميں پيش آنیوالے واقعے کو افسوسناک قرار ديديا، ان کا کہنا ہے کہ دونوں شعبوں (وکلاء اور ڈاکٹرز) کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بتايا ماڈل کورٹس کے ذريعے تيز تر انصاف کو يقينی بنايا جارہا ہے، 25 سے 30 اضلاع ميں کوئی بھی کيس التواء کا شکار نہيں۔

لاہور میں وکلاء کے پی آئی سی پر حملے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کا رد عمل بھی سامنے آگیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور ميں جو ہوا، نہيں ہونا چاہئے تھا، دونوں شعبوں سے جڑی اقدار کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ زير سماعت ہے اس لئے زيادہ بات نہيں کرسکتا، توقع ہے آئندہ ایسی چيزيں نہيں ہوں گی،

چيف جسٹس نے بتايا کہ ماڈل کورٹس کے ذريعے تيز تر انصاف کو يقينی بنايا، اسی نظام ميں رہ کر راستہ نکالا، فوری فیصلوں سے عدل جہانگیری کی یاد آگئی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کم مدت ميں 18 لاکھ سے زائد مقدمات نمٹائے گئے جبکہ جرمانوں سے حکومت کو بھی فائدہ پہنچايا گيا، جرمانوں سے 1.6 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوئے۔

چيف جسٹس نے مزید کہا کہ ماڈل کورٹس کے طريقۂ کار پر کوئی شکايت نہيں ملی، کيسوں کو ماڈل کورٹس منتقل کرنے کی درخواستيں موصول ہورہی ہیں۔

PIC ATTACK

Tabool ads will show in this div