جیریمی کاربن کا لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان

جریمی نے الیکشن کی رات مایوس کن قرار دیدی

برطانوی انتخابات 2019 میں شکست کے بعد لیبر پارٹی کے سربراہ جریمی کاربن نے پارٹی قیادت سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق برطانیہ میں عام انتخابات کے ایگزٹ پولز جاری کر دیئے گئے ہیں، جس میں کنزرویٹیو پارٹی نے اکثریت کے ساتھ میدان مار لیا۔ برطانوی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، بورس جانسن کی کنزرویٹیو پارٹی نے حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی۔

کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ بورس جانسن نے 31 جنوری 2019ء تک یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کردیا، جس کے بعد برطانیہ کا 46 سال پرانا یورپی یونین سے رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔

انتخابات میں شکست کے بعد برطانیہ کی دوسری بڑی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جریمی کاربن نے پارٹی قیادت سے الگ ہونے کا اعلان بھی کردیا۔ اپنے بیان میں جریمی کا کہنا تھا کہ آج کی رات بہت مایوسی کی رات ہے۔ مقامی ٹی وی سے گفتگو میں جریمی کا مزید کہنا تھا کہ یہ لمحہ مجھ سمیت تمام لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے ایک صدمے کا دن ہے۔

لبرل ڈیموکریٹس کی لیڈر جوسوئنسن اپنی نشست کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ جب کہ سابق وزیراعظم ٹریسا مے، برمنگھم سے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار طاہر علی اور خالد محمود، سابق وزیر داخلہ ساجد جاوید سمیت دیگر اہم رہنما کامیاب ہوئے۔

رواں سال ہونے والے انتخابات میں 15 پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں نے بھی کامیابی حاصل کی۔

برطانیہ کے عام انتخابات کے نتائج کے مطابق تقریباً تمام 650 نشستوں کے نتائج جاری کردیئے گئے ہیں، جس کے مطابق کنزرویٹو پارٹی نے 365 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلی ہے، لیبر پارٹی کو 203 جبکہ اسکاٹش نیشنل پارٹی کو نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔

Jeremy Corbyn

UKELECTION

Tabool ads will show in this div