دادو :جوہی میں9سالہ بچی مبینہ طورپرغیرت کےنام پرقتل

بچی کی قبرکشائی کا حکم

سندھ بلوچستان سرحد پر واقعہ علاقے تحصیل جوہی میں 9 سالہ بچی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے والد سمیت 3 افراد کو گرفتار کرکے 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق انہیں 30 نومبر کو سندھ بلوچستان کی سرحد پر واقع ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے گاوں واہی پاندہی کے پہاڑی علاقے میں 9 سالہ بچی کو مبینہ طور پر سنگسار کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

پولیس نے سرکار کی مدعیت میں بچی کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ درج کی گئی ایف آئی آر میں 3 مفرور ملزمان سمیع اللہ، علی نواز رند اور تاج محمد کیلئے تلاش جاری ہے۔ مقتولہ بچی کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے، جس پر آج فیصلہ دیا جائے گا، جب کہ ایس پی فرخ رضا کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے واقعہ کی تفتیش کا آغاز کردیا۔

میڈیا سے گفتگو میں ایس ایس پی دادو ڈاکٹر فرخ رضا ملک کا کہنا تھا کہ معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے، کوئی قانون سے بالا تر نہیں، جرم ثابت ہونے پر ملزمان وک کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

قبر کشائی

ایس ایس پی فرخ رضا کی جانب سے ڈسٹرکٹ سیشن جج کو خط کے ذریعے مقتولہ کی قبر کشائی اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لئے درخواست دے دی گئی یے۔ مقتولہ بچی کا مجسٹریٹ کی نگرانی میں ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دے کر لاش کا معائنہ کیا جائے گا۔

والدین کا بیان

مقتولہ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ گل سماء کی موت سر پر پتھر لگنے سے ہوئی۔ والدین کا مزید کہنا تھا کہ بیٹی کھیل رہی تھی کہ کھیل کے دوران سر پر بھاری پتھر لگنے سے وہ انتقال کرگئی۔ بچی کے قتل کی باتیں غلط ہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

نماز جنازہ پڑھانے والا مولوی

پولیس کی جانب سے بچی کے باپ علی بخش رند، نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی ممتاز لغاری اور کفن دفن کا انتظام کرنے والے ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

honor killing

Tabool ads will show in this div