برطانوی وزیراعظم نےمسلمان خواتین سےمتعلق بیان پرمعافی مانگ لی

بورس جانسن نے برقعہ پوش خواتین کولیٹرباکس کہا تھا

الیکشن قریب آتے ہی برطانوی وزیرِاعظم بورس جانسن نے مسلمان خواتین سے متعلق دیے جانے والے بیان پر معافی مانگ لی۔

اپنے متنازع جملوں کے باعث اکثروبیشتر تنقید کی زد میں رہنے والے بورس جانسن نے برطانیہ میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات سے قبل مسلمان خواتین کیلئے اپنےغیراخلاقی جملوں پر معافی مانگی ہے۔

برطانوی جریدے ٹیلی گراف کیلئے لکھے جانےوالے ایک مضمون میں بورس جانسن نے کہا تھا کہ  برقع پہننے والی مسلمان خواتین لیٹر باکس جیسی  لگتی ہیں، جس پر انہیں شدید تنقید کاسامنا کرنا پڑا تھا۔

مسلمان خواتین سے متعلق اس متنازع بیان پر بورس جانسن کو ان کی اپنی جماعت کنزرویٹو کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لوٹن سے کنزرویٹو امیدوارپرویزاختر نے بھی بورس جانسن سےمعافی مانگنےکامطالبہ کیا تھا جنہوں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ کنزرویٹو کے اند اسلامو فوبیا کیخلاف مہم چلانے والی سعیدہ وارثی نے بھی وزیراعظم کےاس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ یہ اچھا اقدام ہے،امید ہے میری جماعت (کنزرویٹو ) نسل پرستانہ سوچ کا نہ صرف اعتراف کرے گی بلکہ اسے جڑ سے ختم بھی کرے گی۔

اپنے الفاظ پر معافی مانگنے والے بورس جانسن کا کہنا ہے کہ پارٹی کےاندر اسلامو فوبیا سے متعلق آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں گی۔

اس سے قبل لیبر پارٹی کےسکھ رکن پارلیمنٹ تن من جیت سنگھ بھی بورس جانسن کو پارلیمنٹ میں مذہبی منافرت کے حوالے سےدیے جانے والے بیان پرشدید تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔

بہت سے افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ بورس جانسن کی اس معافی کے پیچھے اصل وجہ یہ ہے کہ انتخابی مہم عروج پر ہے اس لیے انہوں نے معذرت خواہانہ رویہ اختیارکرلیا ہے۔

 

APOLOGY

BORIS JOHNSON

Tabool ads will show in this div