کالمز / بلاگ

پاکستان کا کسان کیوں ہے بدحال??

INDIA تحریر : محمد لقمان ان دنوں بھارتی پنجاب کے ایک کسان گروندر سنگھ کا لکھا گیت مختلف سوشل ویب سائٹس پر بڑا مقبول ہے 'اچھے دناں نے پنجاب دی کسانی ڈوب دتی' گیت کو اس کے دو دوستوں دوندر سنگھ گل اور امردیپ سنگھ نے گایا ہے۔   مشرقي پنجاب کے کسانوں نے تو اپنے دکھوں کا اظہار انٹرنيٹ پر کر ليا ہےمگر پاکستان کے کسانوں کے لئے اپنے دکھوں کے اظہار کا کوئي ذريعہ نہيں۔   کبھي کبھي اپنے ذاتي مفاد کے لئے کاشتکاروں کي تنظيموں کے تاحيات سربراہ سڑکوں پر چند سو کسانوں کو لے کر آ جاتے ہيں۔ سڑکيں بلاک کرديتے ہيں، پارليمنٹ کے سامنے دودھ بھي گرا ديتے ہيں۔۔مگر وزراء کے بہلاوے اور اپنے ذاتي مفادات کے لئے کسي دھرنے يا واک کے منطقي انجام سے پہلے ہي احتجاج ختم کرديتے ہيں۔ سياسي جماعتيں بھي اپنا ووٹ بينک بڑھانے کے لئے کسان کنونشنوں کا انعقاد کرتي رہتي ہيں ۔ حکومت کی جانب سے چند پرکشش مراعات کا اعلان بھي ہوجاتا ہے مگر کوششوں ميں اخلاص نہ ہونے کي وجہ سے کسانوں کو اس کا کوئي فائدہ نہيں ہوتا۔۔ اس وقت وسطي پنجاب ميں چاول کي کٹائي شروع ہوگئي ہے۔ اري يا موٹے چاول کي في چاليس کلوگرام قيمت ساڑھے پانچ سو روپے مل رہي ہے جبکہ کسان کي پيداواري لاگت کسي طور چھ سو روپے سے کم نہيں BLOG2 باسمتي چاول کي کٹائي ميں ابھي ايک ماہ باقي ہے۔۔۔ليکن آڑھتيوں اور برآمد کنندگان نے باسمتي دھان کے لئے نو سو روپے في چاليس کلوگرام کا اعلان کيا ہے جو کہ دو سال پہلے کي قيمت 2600 روپے في چاليس کلوگرام کے مقابلے ميں ايک تہائي ہے۔۔اس طرح پاکستاني کسانوں کے لئے اس سال بھي چاول کي کاشت کوئي درست فيصلہ نہيں تھي۔ٹيکسٹائل سيکٹر کي برآمدات ميں مسلسل تين ماہ سے کمي کے بعد ملوں نے کپاس کي خريداري کم کردي ہے۔۔جس کي وجہ سے کسان کو پھٹي کي پوري قيمت نہيں مل رہي ۔ BLOG 1 گندم کي قيمت موجودہ حکومت نے تيرہ سو روپے في چاليس کلو گرام مقرر کي۔۔مگر کاشتکار کو گيارہ سو سے ساڑھے گيارہ سو روپے ملے۔گنے کے کاشتکاروں نے پچھلے نومبر اور دسمبر ميں فصل شوگر ملوں کے حوالے کردي۔۔مگر ابھي اربوں روپيہ مل مالکان نے ادا نہيں کيا۔۔پاکستان کے کسانوں کے مسائل کي سب سے بڑي وجہ کھاد، بيج اور پيسٹي سائيڈز کي شتر بے مہار قيمتيں ہيں۔۔قدرتي گيس سے بننے والي يوريا کھاد کي قيمت پچھلے 8 سالوں ميں 750 روپے في بوري سے بڑھ کر 2000 روپے تک پہنچ گئي ہے۔۔ BLOG ڈي اے پي اور ديگر کھادوں کي قيمتيں بھي کسان کے لئے ايک بہت بڑا بوجھ ہيں۔ ملاوٹ شدہ بيج اور جعلي ادويات فصل کو ايک خاص مقام سے آگے جانے نہيں ديتيں، يہي وجہ سے ملک کي زراعت سے منسلک 12 کروڑ سے زائد آبادي کا ملکي آمدني ميں 24 في صد سے زائد حصہ نہيں اور بينکنگ ، ٹيليکام اور ديگر خدمات کا حصہ اس سے دگنا ہے۔ زراعت کي ترقي کے لئے صرف زرعي پيکج اور ترغيبي اعلانات ہي کافي نہيں۔۔ان پر عمل درآمد کرانا بھي اتنا ہي ضروري ہے۔۔ورنہ زرعي اجناس کي قيمتيں تو بڑھتي رہيں گي مگر کسان کي حالت بہتر نہيں ہوگي۔ سماء  

song

FARMER

ISSUES

PROBLEM

Tabool ads will show in this div