کالمز / بلاگ

شیر کی کچھار میں بلاول کی للکار

Sep 17, 2015
1560613_678463528841038_1877906712_n تحریر: نوید نسیم پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہفتے کے روز پاکستان مسلم لیگ نواز کے مضبوط ترین گھڑھ لاہور میں حکمرانوں پر تاک تاک کے نشانے لگائے۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر کے دوران شریف برادران کو طنزیہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے تو کہا تھا کہ میں چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نا کرسکا تو میرا نام بدل دینا۔ بلاول بھٹو نے للکارتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب، میں آپ کو اب کس نام سے پکاروں۔ کس نام سے پکاروں، کیا نام ہے تمھارا بلاول بھٹو زرداری نے نواز لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو دہشتگردوں کے یار چلا رہے ہیں، حکمران خادم ہیں نہ اعلی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور محترمہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے کو پنجاب  کی یاد تب آئی جب ان کی پارٹی ناصرف 2013 کے انتخابات میں بری طرح سے پِٹی بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاول بھٹو نے نواز لیگ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات میں نون لیگ کو شکست دے گی۔ بلاول بھٹو کو اس طرح کے دعوے کرنے سے پہلے حالیہ ماضی میں اپنی پارٹی کی پوزیشن کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی 2013 کے انتخابات میں پنجاب کی 136 سیٹوں میں سے صرف 3 سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی تھی، جب کہ 2008 کے انتخابات میں جب محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو ہمدردی کا ووٹ بھی ملا تھا۔  پیپلز پارٹی140 میں سے 45 سیٹیں حاصل کرسکی تھی، اس طرح 45 سے 3 سیٹوں تک کا سفر پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے ان کی پرفارمینس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ قبل ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی پورے ملک کے 42 کنٹونمنٹس کے199 وارڈز میں سے صرف 7 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اب جبکہ بلاول بھٹو خوابِ خرگوش کی نیند سے باہر آئیں ہیں تو انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت پنجاب میں نواز لیگ مضبوط ترین پوزیشن رکھتی ہے۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کی تقریب کے دوران پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو نے بلاول بھٹو کو پنجاب کی روایتی پگ بھی پہنائی۔ بلاول بھٹو کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انھیں پنجاب کی روائتی پگ پہنانے والے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور احمد وٹو، ٹوپی پہننانے کے ماہر مانے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ منظور وٹو نے پیپلز پارٹی کے رہنمماؤں کو ٹوپی پہناتے ہوئے پنجاب کی صدارت سنبھال رکھی ہے۔ جو کہ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں فیل ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔ تقریب کے آخر میں بلاول بھٹو سیکیورٹی کا خیال نا کرتے ہوئے چھلانگ مار کر کارکنوں کے درمیان  آگئے۔ جس کے بعد کارکنوں نے اپنے نوجوان کو چیئرمین کو گھیر لیا اور خوب سیلفیا بنوائیں۔ بلاول بھٹو کا چھلانگ مار کر کارکنوں میں آنا بنیادی طور پر ان کی اس کوشیش کو ظاہر کرتا ہے جس کے ذریعے وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے کھوئے ہوئے مقام کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ مگر پنجاب میں کھویا ہوا مقام واپس لینا بلاول کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا کہ چھلانگ مار کر کارکنوں میں آنا۔ بلاول بھٹو کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت ہے اور آج بھی ووٹ بھٹو کے نظریات کو مل سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے لازمی ہے کہ بھٹو فیملی کا بندہ ہی ووٹ مانگے۔ خاص کر جب عوام پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ مایوس ترین دورِ اقتدار بُھگت چکی ہو۔ بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔

PUNJAB

BILAWAL

ZARDARI

RAHEEL

DRASIM

ASIM HUSSAIN

MANZOOR

Tabool ads will show in this div