پاکستان میں ذیابطیس کےمریضوں کی تعداد 70 لاکھ سےتجاوزکرگئی

روزمرہ امور میں تبدیلی اہم
 

کوئٹہ کے بی ایم سی اسپتال میں ذیابطیس کا دن منایا گیا جس کی مناسبت سے واک اور سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔

ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین ذیابطیس ڈاکٹر ظفر ڈاکٹر امان اللہ ، ڈاکٹر ظاہر خان مندوخیل اور شہاب نے بتایا کہ پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 7 ملین تک پہنچ گئی ہے، بلوچستان میں کل مریضوں کی تعداد 3 فیصد ہے ، اگر توجہ نہ دی گئی تو شوگر کے مریضوں کی تعداد 2025 تک 11 ملین تک پہنچ جائے گی،، جنک فوڈ لیس فیزیکل ایکٹیویٹ اس کی وجہ ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ ادویات ، فیسیں اور ٹیسٹ مہنگا ہونے کے باعث بہت سارے افراد علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، یہ حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ صحت کے وسائل اسی حساب سے خرچ کئے جائیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ شوگر کی تشخیص ہوتے ہی اس کا بروقت علاج کرنا چاہیے۔ نارمل غذا ، روزانہ ورزش اور روزمرہ امور بھی تبدیلی شوگر کا مرض 58 فیصد کنٹرول کرسکتا ہے۔

ایم ایس بی ایم سی ڈاکٹر فہیم خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بیماری کا علاج اس وقت کروایا جاتا ہے جب وہ سنجیدہ ہوجائے، عمومی طور پر بیماریوں کی حساسیت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ایشیاء اور پاکستان یورپ میں صحت کی حفاظت کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں جبکہ اس شعور میں پاکستانی اپنے ہمسایوں سے بھی پیچھے ہیں۔

ڈاکٹر فہیم خان مندوخیل نے کہا کہ اکیڈمی کی سطح پر بیماریوں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا چاہئیے، علماء کرام کی مدد اور معاشرے میں آگاہی فراہم کرکے بھی ذیابطیس جیسی بیماریوں کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

Tabool ads will show in this div